آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے حکومتی پیٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت 9 اکتوبر 2026 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں میں ردوبدل کردیا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی کے باعث ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے رجحانات، پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 78 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 395 روپے 72 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔
اسی طرح پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 31 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 398 روپے 96 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔

اوگرا کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہیں۔
قیمتوں کے تعین میں پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمت، پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک میں پہلے سے مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے صارفین پر مزید بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عام طور پر ٹرانسپورٹیشن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ حکومت کے پٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت عالمی مارکیٹ میں قیمتوں اوردیگر متعلقہ عوامل میں تبدیلی کے مطابق ملکی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق 9 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 93 سینٹ، یعنی 0.92 فیصد اضافے کے بعد 101.51 ڈالرز فی بیرل ہوگئی۔
اس کے علاوہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 82 سینٹ یعنی 0.92 فیصد اضافے سے 90.25 ڈالرز فی بیرل پر پہنچ گئی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ امریکی تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات اور یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے ہیں۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی میں اضافہ بھی جاری ہے۔



