تہران میں پاکستانی سفارتخانے نے ایران میں تعینات پاکستانی سفیر عمران احمد صدیقی سے متعلق سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دے دیا۔
پاکستانی سفارتخانے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرجاری بیان میں کہا کہ سفارتخانے نے پاکستان کے سفیر برائے ایران عمران احمد صدیقی سے متعلق سوشل میڈیا اوردیگر فورمزپرگردش کرنے والی اطلاعات کا نوٹس لیا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ سفیر عمران احمد صدیقی کے بارے میں پھیلائی جانے والی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
The Embassy of Pakistan in Tehran has taken note of certain reports circulating in social media and other forums concerning Ambassador Imran Ahmed Siddiqui, Ambassador of Pakistan to the Islamic Republic of Iran. The Embassy categorically clarifies that these reports are baseless and factually incorrect.
https://t.co/A9lOy3hFX6
سفارت جمهوری اسلامی پاکستان در تهران، از انتشار برخی گزارشها در شبکههای اجتماعی و سایر محافل درباره جناب آقای عمران احمد صدیقی، سفیر جمهوری اسلامی پاکستان در جمهوری اسلامی ایران، مطلع شده است.
سفارت بدینوسیله بهطور قاطع تصریح میکند که این گزارشها بیاساس بوده و از صحت و اعتبار برخوردار نیستند— Embassy of Pakistan, Iran (@PakinIran) November 1, 2026
دوسری جانب سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی نشاندہی کرنے والے اکاؤنٹ ”ایکسپوز پروپیگنڈا“ (Expose Propaganda) نے وائرل ویڈیو کا اصل پس منظر سامنے لاتے ہوئے اسے پاکستان اور ایران کا واقعہ قرار دینے کی تردید کی ہے۔
ایکس اکاؤنٹ کے مطابق وائرل ویڈیو دراصل دو روز قبل آرمینیا کی پارلیمنٹ میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہونے والے تصادم کی ہے، جسے غلط طور پر پاکستان اور ایران کے واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔
The viral video is actually from a clash between ruling and opposition lawmakers in Armenia’s Parliament two days ago, falsely portrayed as a Pakistan-Iran incident to spread disinformation and undermine mutual trust. https://t.co/wguqAzenvw
— Expose Propaganda (@EPropoganda1) November 1, 2026
پوسٹ میں بتایا گیا کہ آرمینیا کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم نکول پشینیان کی جماعت کے ارکان اور اپوزیشن قوم پرست ارکان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا تاہم اس ویڈیو کو پاکستانی سفیر پر حملے کا واقعہ ظاہر کرکے سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔
ایکسپوز پروپیگنڈا نے اس عمل کو غلط معلومات پھیلانے اور پاکستان و ایران کے درمیان باہمی اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔
اس طرح پاکستانی سفارتخانے کی تردید اور وائرل ویڈیو کے اصل مقام کی نشاندہی نے پاکستانی سفیر پر حملے سے متعلق سوشل میڈیا دعوؤں کی حقیقت واضح کردی۔
واضح رہے کہ عمران احمد صدیقی اسلامی جمہوریہ ایران میں پاکستان کے سفیر تعینات ہیں، تہران میں پاکستانی سفارتخانے نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے ان سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی باضابطہ تردید کی ہے۔



