مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) ایسوسی ایشنز نے قیمتوں کے تعین کے نئے حکومتی فارمولے کے خلاف 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
ملک بھر میں گیس کی کمی کے باعث مقرر کردہ نرخوں سے تقریباً دوگنی قیمت پر ایل پی جی فروخت ہو رہی ہے۔ اور سردیوں کی آمد کے ساتھ ایل پی جی کی طلب میں اضافے کا بھی امکان ہے۔
ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین علی حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا نیا پرائسنگ فارمولا مسترد کرتے ہیں، اور 16 نومبر سے ملک بھر میں ایل پی جی کی فروخت بند کردی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام ایسوسی ایشنز کے ہنگامی اجلاس میں حکومتی فارمولے کے خلاف ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اور نئے حکومتی فارمولے سے ایل پی جی کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے۔
علی حیدر نے کہا کہ پاکستان سالانہ تقریباً 13 لاکھ ٹن ایل پی جی درآمد کرتا ہے، جس میں سے تقریباً 2 لاکھ 25 ہزار ٹن خلیجی ممالک سے آتی ہے اور اس درآمد کا بڑا حصہ نجی شعبہ سنبھالتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو بھجوائی گئی مجوزہ پالیسی پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اسے نجی شعبے کی مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا ہے۔ تنظیم نے ایل پی جی مارکیٹ کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ رکھنے کا مطالبہ کر دیا۔
علی حیدر نے مقامی طور پر تیار ہونے والی ایل پی جی پر عائد پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے استعمال پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے جمع ہونے کے باوجود سرکاری ادارے موجودہ قلت کے دوران سپلائی یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
دوسری جانب اوگرا نے نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلو اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد نئی سرکاری قیمت 294 روپے 8 پیسے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈر 173 روپے 86 پیسے مہنگا ہوکر 3 ہزار 470 روپے 9 پیسے کا ہوگیا ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ ایران سرحد بند ہونے کے باعث سپلائی کی صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی ہے۔ اور ملک میں ایل پی جی کی تقریباً 70 فیصد ضروریات ایران سے آنے والی سپلائی سے پوری ہوتی ہیں، جبکہ 30 فیصد مقامی پیداوار ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کرکے قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے۔
دوسری جانب سردیوں کی آمد کے ساتھ ایل پی جی کی طلب میں بھی نمایاں اضافے کا امکان ہے۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کے مطابق روزانہ کھپت 4 ہزار سے 4 ہزار 500 ٹن سے بڑھ کر سردیوں میں 6 ہزار سے 7 ہزار ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں سے تقریباً دوگنی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے، جبکہ ایسوسی ایشنز کی ہڑتال کے اعلان سے صارفین کو سپلائی متاثر ہونے اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ملک میں ایل پی جی کی قلت اور درآمدی سپلائی متاثر ہونے کے باعث اوپن مارکیٹ میں قیمتیں بے قابو ہوگئی ہیں، لاہور میں ایل پی جی 600 سے 650 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی، جبکہ پشاور میں بھی قیمت 620 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔


