پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی دستے کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کی سعودی عرب میں تعیناتی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں متعین ہیں اور مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستے مختلف ڈومینز سے تعلق رکھتے ہیں۔
مکہ دفاعی اتحاد کا اجلاس
اس قبل 5 اکتوبر کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سعودی عرب میں مکہ دفاعی اتحاد کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ جس میں مکہ مدینہ سمیت سعودی عرب کے دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کی گئی تھی۔ جبکہ سعودی عرب میں فوجی دستے فوری تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔
رواں سال 7 اگست کو مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے میں کہا گیا تھا کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔
اجلاس میں مکہ اتحاد برائے دفاع کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی ترقی کے سلسلے میں اہم فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو 3 سال کے لیے اتحاد کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کیا۔
اعلامیے کے مطابق فریقین نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ اتحاد کو آگے بڑھانے اور اس کے مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔
🔊PR No.2️⃣7️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement: Emergency Meeting of the Strategic Political and Defense Committee of the Makkah Alliance for Defence, Riyadh -5 October, 2026
🔗⬇️ https://t.co/ynFYzqILzc
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 5, 2026
مشترکہ اعلامیے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش سمیت سعودی عرب کے شہروں، شہری اور اقتصادی تنصیبات پر جاری حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ فریقین نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا خطرے کو واضح طور پر مسترد کردیا۔
پاکستان اور ترکیہ نے سعودی مسلح افواج کی جانب سے خطرات اور حملوں کا مقابلہ کرنے، مملکت کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے دکھائی جانے والی چوکسی، تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور اعلیٰ کارکردگی کو سراہا۔



