اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں پر برطانوی پابندیوں کے ردعمل میں یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانہ بند کرکے 20 سفارتکاروں کو ملک سے بے دخل کر دیا۔
سفارتی کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سمیت 12 ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر پرتشدد حملوں کے بعد اسرائیلی آبادکاروں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے 8 ستمبر کو برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گڈون ساعر نے تصدیق کی کہ یروشلم میں برطانوی قونصل خانے نے اپنا کام بند کردیا ہے۔ اور قونصل جنرل سمیت 20 سفارتکاروں کے مشن ختم کردیئے گئے ہیں اور وہ اسرائیل چھوڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے برطانوی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔ قونصل خانے کی عمارت برطانوی حکومت کی ملکیت ہے، جہاں 7 سفارتکاروں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس انتہائی محدود دائرہ کار میں کام جاری رکھ سکے گی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں حکومتوں نے اہم معاملات پر بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
We established a clear principle: It is not possible to act against Israel without Israel taking appropriate measures in response.
In this spirit, the measures I announced on 8 September have been implemented:
1.The removal of the British representatives from the International Gaza Support Center in Kiryat Gat.
2.The termination of British activity to train Palestinian Authority forces in Judea and Samaria.
3.The denial of entry to Israel of 12 British elected officials and other British citizens involved in antisemitic and anti-Israel activity, as well as those who deny our very right to exist.
4.The British Consulate in Jerusalem is ending its operations today. Accordingly, the sign of the British Consulate in Jerusalem has been removed.We did not want to reach this point, but the actions of the UK Labour Government brought us here.
Their latest decision in this series was to initiate a range of far-reaching sanctions against the communities in Judea and Samaria, as well as additional sanctions on defence exports to Israel. All this was accompanied by hostile rhetoric, including false accusations against Israel, such as accusations of “ethnic cleansing.”
This decision adds to a growing and escalating series of unilateral measures against Israel adopted by the Labour Government since taking office in July 2024.
These measures included, among others, unilateral recognition of a virtual “Palestinian state” in September 2025; the renewal of funding to UNRWA; the suspension of licences for defence exports to Israel; the imposition of sanctions on Israeli ministers; the imposition of sanctions on Israeli individuals and entities; the suspension of negotiations on a free trade agreement; restrictions on Israel’s official participation in an international defence and security equipment exhibition in Britain; the freezing of military dialogue and security cooperation; the prevention of IDF officers from participating in training at the Royal College of Defence Studies; and repeated, biased and unilateral attacks against Israel in the international arena.
— Gideon Sa’ar | גדעון סער (@gidonsaar) October 8, 2026
‘برطانیہ یروشلم میں فلسطینی عوام کو ضروری خدمات کی فراہمی جاری رکھے گا’
دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ یروشلم میں فلسطینی عوام کو ضروری خدمات کی فراہمی جاری رکھے گا۔ اور برطانیہ عمارت کو اب ‘یو کے مشن، یروشلم’ کے نام سے چلائے گا، جو مکمل طور پر فعال اور خود مختار ہو گا۔
ایڈ ملی بینڈ نے واضح کیا کہ برطانیہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے قونصل خانہ بند کروانے کے اقدام کو قانونی حق تسلیم نہیں کرتا۔ برطانیہ آنے والے مہینوں میں اپنی سفارتی موجودگی بحال کرنے کے لیے کام کرے گا اور جب تک سنجیدہ بات چیت جاری ہے، کوئی جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
We retain our long-standing presence in Jerusalem. My statement: https://t.co/ABnaopUBwU
— Ed Miliband (@Ed_Miliband) October 8, 2026
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قونصل خانے کی عمارت کے بیرونی حصے سے برطانوی سفارتی نشان اور تختی بھی ہٹا دی گئی ہے۔
اسرائیل نے برطانیہ کے خلاف دیگر اقدامات بھی کیے، جن میں غزہ جنگ بندی پلان کے مانیٹرنگ سینٹر سے برطانوی نمائندوں کی بے دخلی، فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کے لیے برطانوی تربیت پر پابندی اور 12 برطانوی شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی شامل ہے۔
🇮🇱🇬🇧 Israel forces 20 British diplomats out of East Jerusalem
British diplomatic personnel are leaving the nearly 200-year-old consulate following Israel’s retaliation against London’s sanctions on illegal settlements in the occupied West Bank.
The consul general is among those departing, while just seven diplomats will remain under a last-minute arrangement that renames the consulate the “UK Mission, Jerusalem.”
Britain insists Israel has no legal authority to shut down its diplomatic presence in occupied East Jerusalem.
— DD Geopolitics (@DD_Geopolitics) October 8, 2026
قونصل خانے کی ویب سائٹ کے مطابق مشن برطانیہ اور فلسطین کے درمیان سیاسی، تجارتی، سکیورٹی اور اقتصادی امور کی نگرانی کے علاوہ یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں برطانوی شہریوں کو قونصلر خدمات بھی فراہم کرتا تھا۔
تقریباً 200 سال سے برطانوی موجودگی
یروشلم میں برطانوی قونصلر موجودگی تقریباً دو صدیوں پر محیط ہے، یعنی 1948 میں اسرائیل کے قیام سے بھی پہلے سے برطانیہ کا قونصل خانہ یہاں موجود ہے۔ قونصل خانہ مشرقی یروشلم کے شیخ جراح محلے میں واقع ہے اور یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ قونصلر خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے قونصل خانہ بند کرنے کا فیصلہ تل ابیب میں قائم برطانوی سفارت خانے پر لاگو نہیں ہوتا، جو اسرائیلی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کا ذمہ دار ہے۔
برطانیہ کی جانب سے قونصل خانہ کھلا رکھنے کی کوششوں کے باوجود اسرائیل اپنے فیصلے پر قائم رہا، حتیٰ کہ گزشتہ ہفتے برطانوی قومی سلامتی کے مشیر نے مذاکرات کے لیے اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا۔
لندن کاجوابی کارروائی پر غور
بحران میں مزید شدت آنے کے خدشے کے پیش نظر رائٹرز نے منگل کو انکشاف کیا کہ برطانیہ یروشلم میں اپنے قونصل خانے کی بندش کے جواب میں لندن میں قائم اسرائیلی سفارت خانے سے اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے پر غور کر رہا ہے۔
دونوں ممالک کی جانب سے سفارت کاروں کو ایک دوسرے کے ملک سے نکالنے کا اقدام غیر معمولی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس شعبوں میں قریبی تعلقات ہیں۔
یہ بحران گزشتہ تین برس کے دوران برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں آنے والی خرابی کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ غزہ جنگ، اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملوں پر برطانیہ کی تنقید ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو کی حکومت برطانیہ میں برسراقتدار لیبر پارٹی پر اسرائیل کے خلاف معاندانہ مؤقف اختیار کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔



