جسٹس ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پرمشتمل پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے نوٹس کو چیلنج کرنے کی درخواست مسترد کردی گئی۔
الیکشن کمیشن نے نوٹس کیوں جاری کیا؟
ہری پور میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے سرکاری افسران کے حوالے سے بیان دینے پرالیکشن کمیشن نے انہیں نوٹس جاری کیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس میں وزیراعلیٰ سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر وضاحت طلب کی گئی تھی۔
معاملے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الیکشن کمیشن کے نوٹس کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نوٹس جاری کرنے کا اقدام قانون کے مطابق نہیں۔
عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
وزیراعلیٰ کی درخواست پر سماعت کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا۔
عدالت نے وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔
جس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس کے خلاف وزیراعلیٰ کو عدالت سے ریلیف نہیں مل سکا۔
عدالتی فیصلے کے بعد ہری پور ضمنی الیکشن کے دوران وزیراعلیٰ کے بیان سے متعلق الیکشن کمیشن کی کارروائی کا معاملہ دوبارہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔



