خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں ک فائرنگ سے 4 کسٹم اہلکار شہید ہوگئے۔
ترجمان پولیس کے مطابق قریشی موڑ ابھایہ پل کے قریب تھانہ گومل یونیورسٹی کی حدود میں واقعہ پیش آیا، جہاں دہشت گردوں نے کسٹم اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
پولیس کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 کسٹم اہلکار شہید ہوئے جبکہ حملے کے بعد ملزمان بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔
اہلکاروں کی نعشوں کو سول اسپتال کے ٹراما سنٹر منتقل کر دیا گیا، پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرکے مزید تفتیش شروع کردی۔
واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظرضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ اور موبائل فون سروس بھی بند ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کا دوسرا واقعہ تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کی حدود مفتی محمود چوک کے قریب پیش آیا جہاں ٹریفک پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ پچھلے 10 دنوں کے دوران صوبے میں ٹریفک پولیس کی موبائل پر دوسرا حملہ ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق تازہ حملے میں ٹریفک پولیس کے کانسٹیبل ڈرائیور محمد حبیب شہید اورہیڈ کانسٹیبل سبحان خان شدید زخمی ہوگئے۔واقعے کے بعد ریسکیو ٹیم نے شہید اور زخمی اہلکار کو ٹرامہ سنٹر ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا۔
پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔
دہشتگردی کے خلاف پاکستانی عوام اور سکیورٹی ادارے فولادی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، صدر مملکت
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات پر اظہارِ تشویش کیا ہے ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے ٹریفک اہلکار اور کسٹمز اہلکاروں کی شہادت پر اظہارِ افسوس کیا اور کہا کہ بیرونی سرپرستی اور مقامی سہولت کاروں کی طرف سے جاری دہشتگردی کے خلاف پاکستانی عوام اور سکیورٹی ادارے فولادی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ پاکستانی عوام اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات پر اظہارِ تشویش۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا ڈیرہ اسماعیل خان میں فائرنگ کے واقعات میں ٹریفک اہلکار اور کسٹمز اہلکاروں کی شہادت پر اظہارِ افسوس۔
صدر مملکت نے کہا کہ بیرونی سرپرستی اور مقامی سہولت کاروں کی طرف سے جاری دھشتگردی کے خلاف پاکستانی عوام اور سیکیورٹی ادارے فولادی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
صدرِ مملکت کا شہید اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار۔
صدر کی دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والے اہلکار کی جلد صحتیابی کے لیے دعا۔
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 6, 2026
وزیراعظم کا دہشتگردی کے حالیہ واقعات پراظہارتشویش
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر اظہارتشویش کرتے ہوئے 4 کسٹم اہلکاروں کی شہادت پرلواحقین سے اظہارتعزیت کیا ۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں،دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔
صوبے میں دہشت گردی کے مختلف واقعات
صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ 28 ستمبر 2026 کو خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہوگئے تھے۔
واقعے سے متعلق ٹانک کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے ترجمان نے ہم نیوز کو بتایا تھا کہ شہید ہونے والے اہلکاروں میں کانسٹیبل سلیم شاہ، کانسٹیبل گل امین اور ڈرائیور فیاض الدین شامل ہیں۔
ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فتنہ الخوارج کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں ٹریفک پولیس کے تین اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔شہید ہونے والوں میں کانسٹیبل گل آمین، کانسٹیبل سلیم شاہ اور کانسٹیبل فیاض شامل ہی pic.twitter.com/5YXIHmdWPO
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) September 28, 2026
تھانہ سٹی پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل سوار حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے اور پولیس اہلکاروں کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔
27 ستمبر کو ضلع لکی مروت میں دہشتگردوں کے حملے میں 3 افراد شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے تھے۔
26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خود کش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 35 زخمی ہو ئے تھے۔
18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 21 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔


