بیلجیئم کے ماہرِ فزکس فرانسس ہالزن نے نوبل انعام برائے فزکس جیت لیا۔
بیلجیئم کے ماہرِ فزکس پروفیسر فرانسس ہالزن نے خلا سے آنے والے ذرات کا سراغ لگانے والی منفرد رسدگاہ آئس کیوب کی تیاری اور قائدانہ کردار پر نوبل انعام برائے فزکس جیت لیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق فرانسس ہالزن نے قطبِ جنوبی میں آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی تیاری کی قیادت کی جو تقریباً ایک مکعب کلومیٹر پر محیط انٹارکٹک برف میں نصب ہزاروں حساس روشنی کے آلات کے ذریعے نیوٹرینو نامی ذرات کا سراغ لگاتی ہے۔
نیوٹرینو انتہائی کم تعامل کرنے والے ذیلی جوہری ذرات ہیں جو کائنات کے دور دراز اور انتہائی توانائی والے واقعات سے متعلق اہم معلومات اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ سائنس دان ان ذرات کے ذریعے ایسے کائناتی مظاہر کا مطالعہ کر سکتے ہیں جنہیں روایتی دوربینوں سے دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کے لیے فرانسس ہالزن کا وژن اور سائنسی قیادت بنیادی اہمیت کی حامل رہی ہے۔
فرانسس ہالزن نے 1988 میں قطبِ جنوبی پر نیوٹرینو کا سراغ لگانے کے لیے رسدگاہ قائم کرنے کا تصور پیش کیا تھا، نوبیل انعام ملنے پر انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ ان کا تصور اتنی کامیابی سے عملی شکل اختیار کر گیا۔
آئس کیوب میں نیوٹرینو کبھی کبھار برف کے ایٹمی مرکزے سے ٹکراتے ہیں، جس کے نتیجے میں تیز رفتار ذرات پیدا ہوتے ہیں، یہ ذرات برف میں سے گزرتے ہوئے نیلی روشنی کی جھلک پیدا کرتے ہیں، جسے حساس ڈیٹیکٹرز ریکارڈ کرتے ہیں، روشنی کے وقت اور سمت کے تجزیے سے سائنس دان نیوٹرینو کے ممکنہ ماخذ کا تعین کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آئس کیوب نے کائنات کے مطالعے کے لیے ایک نئی کھڑکی کھول دی ہے اور اس کے ذریعے سائنس دان دور دراز کہکشاؤں، پھٹتے ہوئے ستاروں اور دیوہیکل بلیک ہولز کے گرد انتہائی توانائی والے ماحول کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
BREAKING: Scientist Francis Halzen won the 2026 Nobel Prize in Physics for ‘decisive contributions to the IceCube Neutrino Observatory and the discovery of high-energy neutrinos of astrophysical origin’ https://t.co/1jXueEWK0F https://t.co/BHxND8ELj3
— Reuters (@Reuters) October 6, 2026
نوبل کمیٹی برائے فزکس کے چیئرمین پروفیسر مارک پیئرس نے فرانسس ہالزن کی سائنسی بصیرت اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے فلکیات میں ایک نئی قسم کی تحقیق کی راہ ہموار کی ہے۔
فرانسس ہالزن کون ہیں؟
فرانسس ہالزن بیلجیئم میں پیدا ہونے والے معروف ماہرِ طبیعیات ہیں۔ ان کا تعلق ذراتی طبیعیات، فلکی طبیعیات اور کائنات کے مطالعے سے ہے۔ انہوں نے بیلجیئم کی کیتھولک یونیورسٹی آف لووین سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1969 میں طبیعیات میں ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
1972 سے وہ امریکا کی یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن سے وابستہ ہیں، جہاں انہوں نے تدریس اور تحقیق کے ساتھ ساتھ آئس کیوب منصوبے کی قیادت کی۔
فرانسس ہالزن نے 1988 میں قطبِ جنوبی کی برف کو استعمال کرتے ہوئے خلا سے آنے والے نیوٹرینو ذرات کا سراغ لگانے کا تصور پیش کیا، ان کی قیادت میں یہ تصور ایک بڑے سائنسی منصوبے کی شکل اختیار کر گیا، جسے آئس کیوب نیوٹرینو رسدگاہ کہا جاتا ہے۔

آئس کیوب انٹارکٹیکا میں تقریباً ایک مکعب کلومیٹر برف کے اندر نصب ہزاروں حساس آلات پر مشتمل ہے۔ یہ آلات انتہائی کم یاب نیوٹرینو ذرات سے پیدا ہونے والی روشنی کا سراغ لگاتے ہیں۔ نیوٹرینو کے ذریعے سائنس دان کائنات کے دور دراز اور انتہائی توانائی والے مظاہر، بشمول کہکشاؤں اور بڑے بلیک ہولز کے گرد ہونے والے واقعات، کا مطالعہ کرتے ہیں۔
فرانسس ہالزن کی کوششوں نے نیوٹرینو فلکیات کے ایک نئے شعبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں اس سے قبل بھی کئی اہم سائنسی اعزازات مل چکے ہیں۔



