یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی بڑی آئل کمپنی آرامکو کی ریفائنری پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ سعودی حکام نے حوثیوں کا دعویٰ بے بنیاد قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے دارالحکومت صنعا اور دیگر صوبوں میں کیے گئے حملوں کے جواب میں کیا گیا۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق صوبہ عسیر کے گورنریٹ احد رفیدہ میں گزشتہ روز حوثیوں کا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کے ملبے کی زد میں آ کر ایک شخص زخمی ہو گیا جبکہ جنوبی شہر نجران میں حوثیوں کے پروجیکٹائل حملے میں اسکول کو نقصان پہنچا تھا۔
رائٹرز کے مطابق سعودی حکام نے ریاض کو نشانہ بنانے کے حوثیوں کے دعوے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے دعوے تعز اور دیگر محاذوں پر جانی نقصانات پر پردہ ڈالنے کیلئے کیے جا رہے ہیں۔
آرامکو کی تنصیب کے قریب دھوئیں کے بادل
ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہفتے کے روز ریاض میں آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دکھائی دیئے۔ فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔
حوثیوں نے گزشتہ ہفتے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے یَنبُع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ جبکہ سعودی عرب نے کہا تھا کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے طائف اور یَنبُع کے علاقے کی طرف داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا، تاہم آرامکو کی تنصیبات کو پہنچنے والے کسی نقصان کے حوالے سے نہیں بتایا گیا تھا۔
حوثی جنگجووں کیخلاف نئی فوجی کارروائی کی تیاری
دریں اثنا، خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیر غور منصوبوں میں بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے ساحلی محاذ سے پیش قدمی یا متعدد محاذوں پر حملے شامل ہیں۔
تیاریوں سے واقف 6 افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ کارروائی آئندہ 6 ہفتوں میں شروع ہو سکتی ہے، جس میں زمینی لڑائی یمنی فورسز کریں گی، جبکہ سعودی عرب فضائی حملوں کے ذریعے معاونت فراہم کرے گا۔
ذرائع نے رائٹرز کو مزید بتایا کہ امریکا یمن میں سعودی کارروائیوں کے لیے پہلے ہی انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک سعودی عرب کو زیادہ تر دفاعی نوعیت کی فوجی مدد دے رہے ہیں۔ تاہم ان اتحادی ممالک کی براہ راست لڑائی میں حصہ لینے کی توقع نہیں ہے۔



