برطانوی حکومت نے یمن کے حوثی ملیشیا کے حملوں کے پیش نظر سعودی عرب کو محدود مدت کے لیے دفاعی فضائی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانگی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ یہ فیصلہ سعودی عرب کی فوجی مدد کی درخواست پر کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانوی طیارے سعودی جنگی طیاروں کو حوثی ملیشیا کے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے خلاف کارروائی کے لئے فضائی ایندھن بھرنے کی سہولت فراہم کریں گے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ یہ فضائی معاونت ابتدائی طور پر چند ہفتوں تک جاری رہے گی۔ یہ تعاون سعودی طیاروں کی معاونت تک محدود ہو گا جو ڈرونز اور میزائلوں کے حملوں سے ملک کا دفاع کر رہے ہیں تاہم حوثیوں کے خلاف حملوں میں معاونت نہیں کی جائے گی۔
“برطانیہ اور خطے کے وسیع تر مفادات کو محفوظ بنانے کیلیے کام کر رہے ہیں”
اینڈی برنہم نے مزید کہا کہ وہ برطانیہ اور خطے کے وسیع تر مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، بحیرہ احمر سے گزرنے والے بحری راستے عالمی معیشت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ اسلئے ان راستوں کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔
برطانیہ ماضی میں بھی سعودی عرب کو دفاعی معاونت فراہم کر چکا ہے۔ جنوری 2024 میں تجارتی بحری جہازوں اور رائل نیوی کے جنگی جہاز پر حملوں کے بعد برطانیہ نے امریکا کے ساتھ مل کر یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔
حوثیوں کے ریاض، بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں توانائی کے مراکز پر حملے
خیال رہے حالیہ دنوں میں حوثی ملیشیا نے سعودی دارالحکومت ریاض اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں توانائی کے مراکز پر ڈرون اور میزائل حملے کئے۔ جس کے بعد انہوں نے باب المندب پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ حوثیوں نے اسٹریٹجک بندرگاہی شہر موخا اور پیریم جزیرے پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جو بحیرۂ احمر کا ایک اہم دروازہ ہے۔ یہ بحری راستہ سعودی عرب کے زیرِ استعمال اہم تجارتی گزرگاہ بھی ہے۔
سعودی عرب 2015 سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ سعودی مداخلت کے بعد یمن میں جنگ میں شدت آ گئی ہے۔



