پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ آج کے اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے میٹنگ کی گئی جبکہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی خبر پر بھی غور کیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم ریاست اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، سب سے پہلے پاکستان اور اس کا امن و امان ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے خودمختار ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا جبکہ عوام کی مرضی کے خلاف کوئی اقدام کیا گیا تو وفاق کمزور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا ملک ہے، سب سے پہلے پاکستان اور اس کا امن و امان ہے۔ ہم ریاست اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے تمام تحفظات مشران کے سامنے رکھ چکے ہیں۔
4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال برقرار
پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال برقرار رکھی ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق مارچ کو سیاسی اور پرامن رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے، یہ مارچ پہلے ستمبر کے آخری ہفتے کے لیے زیرِ غور تھا جسے بعد میں 4 اکتوبر تک موخر کیا گیا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کی بات کیوں ہو رہی ہے؟
لانگ مارچ کی تیاریوں کے ساتھ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور وفاق و صوبے کے درمیان اختلافات کے باعث گورنر راج اور ایمرجنسی کے آئینی آپشنز پر بحث تیز ہوئی ہے۔
30 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ذرائع کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی سمیت ممکنہ آئینی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی چیلنجز کو اہم معاملہ قرار دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کر رہی ہے
پی ٹی آئی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی مخالفت کی ہے۔ بیرسٹر گوہر کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات لانگ مارچ کے مسئلے کا حل نہیں اور صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ گئے لیکن عدالتی آرڈر پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ جہاں ہم جاتے ہیں وہاں ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ حکومت نے باضابطہ طور پر ہم سے رابطہ نہیں کیا تاہم حکومت کی جانب سے رابطہ ہوتا ہے تو بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
حکومت کا مؤقف
دوسری جانب حکومتی شخصیات کی جانب سے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے آئینی آپشنز پر غور کی بات کی گئی ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے بھی 30 ستمبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے امکان پر حکومت کے سنجیدگی سے غور کرنے کی بات کی تھی۔



