امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ حکومت کو پی ٹی آئی سے بامعنی مذاکرات کرنے چاہئیں ، مذاکرات کے 6 ادوار ہوئے، نتیجہ نہیں نکلا تو کیا فائدہ؟ وزیراعظم خود مداخلت کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ پر امن احتجاج پی ٹی آئی کا حق ہے۔ لیاقت بلوچ کا اسد قیصر سے رابطہ ہوا ہے، پرامن جمہوری سیاسی احتجاج کو سپورٹ کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی اور ملاقاتوں کا معاملہ ہے تو پی ٹی آئی سے حکومت بات کیوں نہیں کرتی۔
انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم لیوی کو غیر قانونی اور عوام کی جیبوں پر ڈاکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں گزشتہ ہفتے جس تناسب سے قیمتیں کم ہوئیں، پاکستان میں اسی حساب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کیوں نہیں کی گئیں؟
عوام سے ٹیکس لینے کا عالمی مارکیٹ سے کیا تعلق؟
حافظ نعیم نے سوال اٹھایا کہ عالمی مارکیٹ کا پٹرولیم لیوی، ریفائنریز کے معاملات اور آپسی مک مکا سے کیا تعلق ہے؟ پٹرول پر عام بندے سے جس طرح ٹیکسز لیے جا رہے ہیں اس کا عالمی مارکیٹ سے کیا تعلق ہے؟
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس جمع کرنے میں ناکام ہے اور عوام پر بوجھ ڈال کر اپنی نااہلی چھپائی جا رہی ہے۔ مہنگائی، بجلی اور گیس کی قیمتوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف ہماری تحریک جاری ہے، حیدرآباد میں گزشتہ روز جلسہ ہوا جبکہ دھرنا آج بھی جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان واپس آ چکے ہیں، لیوی بھتہ ختم نہ کیا تو لانگ مارچ شروع کر دیں گے۔
حکومت کی سود سے متعلق پالیسی پر بھی تنقید
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی سود سے متعلق پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ 2027 میں سود ختم کرنے کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن اس وقت پالیسی ریٹ 11 فیصد ہے، افراط زر کا پالیسی ریٹ کم ہونے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
خیال رہے جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کیخلاف کراچی سے اسلام آباد مارچ کا آغاز کیا تھا تاہم امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم سے ٹیلفونک رابطہ کرکے وزیراعظم شہباز شریف نے لانگ مارچ چند روز کے لیے موخر کرنے کی درخواست کی تھی جس پر جماعت اسلامی نے مارچ موخر کرتے ہوئے ملتان میں پڑاؤ، دھرنے اور احتجاجی کیمپ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ، حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی احتجاجی تحریک سے دستبردار نہیں ہو گی۔



