قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود دوحہ ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق قطر کے وزیر اعظم نے برطانوی براڈکاسٹر پیئرز مورگن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جو کچھ کیا گیا ہے وہ جنگی جرائم ہیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا، کوئی بھی جواز یا دلیل ان کارروائیوں کو درست ثابت نہیں کر سکتی، نیتن یاہو یا سمیت جو بھی ان کارروائیوں کا ذمہ دار ہے وہ جنگی مجرم ہے۔
قطر کے وزیر اعظم نے حماس کے عسکری آپریشنز کی مالی معاونت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے قطر کے خلاف مہم چلائی جس کا مقصد ثالث کے طور پر قطر کے کردار کو کمزور کرنا تھا۔ نیتن یاہو اپنی حکومت کی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی طور پر قطر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
دوحہ میں اسرائیلی حملہ کسی ثالث پر غیر معمولی حملہ تھا
قطر کے وزیراعظم نے گزشتہ سال ستمبر میں دوحہ میں اسرائیلی حملے سے متعلق کہا کہ حملے میں حماس کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ اس وقت قطر حماس اور دیگر فریقوں کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف تھا۔ یہ حملہ کسی ثالث پر ہونے والا غیر معمولی حملہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے حد پار کر دی ہے، جیسا کہ وہ اس سے پہلے بھی کئی حدود پار کر چکے ہیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا کہ دوحہ سفارت کاری کو ترجیح دیتا رہے گا۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی حکومت کو مسئلے کے حل تک پہنچنے کے طریقہ کار کے بارے میں بہترین مشورہ دے سکیں، اسی طرح ایرانیوں کو بھی۔
جنگ کے خاتمے کیلئے تین اہم معاملات کا حل ہونا ضروری
خطے میں تنازع کے حوالے سے قطری وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے تین اہم معاملات جن میں ایران کا جوہری پروگرام اور پابندیاں، آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت، اور ایران و خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان علاقائی سکیورٹی انتظامات شامل ہیں ، حل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی سکیورٹی کا کوئی بھی فریم ورک مکالمے، عدم مداخلت اور عدم جارحیت کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے، جبکہ اقتصادی تعاون کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔
قطر امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچا رہا ہے
اس سے قبل منگل کو قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا تھا کہ دوحہ ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قطر کو مزید فوجی کشیدگی میں اضافے پر تشویش ہے اور وہ پرامن حل کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔



