وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ریلوے ٹریک، ڈویژنز میں جاری منصوبوں، روہڑی جنکشن کی اپ گریڈیشن، سکریپ کی تلفی اور تجاوزات کے خلاف کارروائی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر نے ریلوے ٹریک سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے مختلف تجاویز پیش کیں۔ وزیر ریلوے نے تمام ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس (ڈی ایسز) کو ہدایت کی کہ تجاویز پر 20 اکتوبر تک عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ روہڑی جنکشن کی اپ گریڈیشن کا کام 25 دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ ریلوے سسٹم میں موجود تمام سکریپ کو 31 دسمبر تک ڈسپوز کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
محمد حنیف عباسی نے وے برجز پر اوورلوڈنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ شکایت موصول ہونے پر فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے ڈویژنز میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے بھی اہم فیصلے کیے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ ہیڈکوارٹرز آفس ڈویژنز کی جانب سے بھیجی جانے والی ڈیمانڈز کا 72 گھنٹے میں جواب دینے کا پابند ہوگا تاکہ منصوبوں اور دیگر امور میں غیرضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔
انہوں نے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن پر بھی واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کارروائی کرنے والے ریلوے عملے کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے۔
تجاوزات کے خلاف کامیابی کیلئے نیب اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔
اجلاس میں اپ گریڈ ہونے والی ٹرین کے ریک کو کسی صورت تبدیل نہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔



