پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی خطے میں امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی سائیڈ لائنز پر نیویارک میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ اجلاس پاکستان کی زیر صدارت ہوا اور صدارت سنبھالنے کے بعد پاکستان نے کونسل کے لیے اپنی ترجیحات پیش کیں۔
اجلاس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے جو خطے میں مکمل طور پر ضم ہو اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہے۔ ان کے مطابق یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی مقاصد، یعنی امن، ترقی اور علاقائی انضمام، سے مطابقت رکھتا ہے۔
Video of the remarks by the Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 at the Annual Meeting of Foreign Ministers of the G-77 and China in New York. pic.twitter.com/Nu85P1UJBp
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 26, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے طالبان حکومت کے ساتھ تعمیری روابط کی پالیسی اپنائی اور افغانستان کو دوطرفہ اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں سہولتیں فراہم کیں۔ پاکستان نے ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر بھی ترجیحاً دستخط کیے۔
تاہم ان کے مطابق پاکستان کی واحد توقع یہ تھی کہ طالبان حکومت اس کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرے گی۔ “پاکستان کو توقع تھی کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان سے منسلک گروہوں کے خلاف ’ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات‘ کیے جائیں گے، جو پاکستان کی خودمختاری اور شہریوں کی زندگیوں کے لیے مسلسل خطرہ ثابت ہو رہے ہیں۔”
ای سی او کی صدارت اور علاقائی تعاون
اسحاق ڈار نے اجلاس میں کہا کہ پاکستان 2026-27 کے لیے ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کی صدارت سنبھالنے پر رکن ممالک کا شکر گزار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صدارت کا موضوع ’لچکدار ای سی او کے لیے علاقائیت کی بحالی‘ ہے اور پاکستان تنظیم کے طویل مدتی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرے گا۔
انہوں نے خطے اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل کا حامی ہے۔
ان کے مطابق ای سی او کے رکن ممالک کو اپنی اجتماعی صلاحیت بروئے کار لاتے ہوئے تقریباً 50 کروڑ افراد کے لیے امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینا چاہیے۔
تجارت اور رابطہ کاری پاکستان کی ترجیحات
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ ای سی او کی صدارت کے دوران پاکستان تجارت اور معاشی انضمام، علاقائی رابطہ کاری، تجارتی سہولت کاری اور موسمیاتی لچک کو ترجیح دے گا۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 80 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے اور تقریباً 50 کروڑ آبادی کے باوجود ای سی او خطے کا عالمی تجارت میں حصہ تقریباً 2.2 فیصد ہے، جبکہ خطے کے اندر تجارت مجموعی علاقائی تجارت کا تقریباً 8 فیصد ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق یہ اعداد و شمار علاقائی معاشی انضمام کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے وسطی ایشیا کو بحیرۂ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے والے ٹرانزٹ راستوں کو فعال بنانے، کسٹمز کے طریقۂ کار کو ہم آہنگ کرنے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو بہتر بنانے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت اور ویزا سسٹم میں سہولتوں کے ذریعے خطے کے لیے گیٹ وے کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان نے ای سی او تجارتی معاہدے کی بنیاد پر ایک فعال اور ڈیجیٹل سہولتوں سے آراستہ آزاد تجارتی خطہ قائم کرنے کی جانب پیش رفت پر بھی زور دیا۔
موسمیاتی تبدیلی بھی اہم چیلنج
اسحاق ڈار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے میں پانی اور خوراک کے تحفظ، زراعت اور روزگار کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔
انہوں نے آفات سے نمٹنے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے، پائیدار توانائی اور ماحولیاتی موافقت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ای سی او سیکریٹریٹ اور اس سے وابستہ اداروں کے ڈھانچے اور دائرۂ کار کا جائزہ لینے کی بھی تجویز دی تاکہ وہ بدلتے ہوئے جغرافیائی اور معاشی حالات کے مطابق کام کر سکیں۔
وزیرِ خارجہ نے اجلاس کو بتایا کہ نومبر میں اسلام آباد میں ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کا 30واں اجلاس ہوگا، جبکہ تنظیم کے لیے 2026-2035 کے معاشی تعاون کے تزویراتی اہداف پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
