تحریک انصاف نے لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی کمیٹی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر بروز اتوار پشاور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔
اس سے قبل متضاد بیانات سامنے آئے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج برقرار ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اڑھائی گھنٹے وزیراعلیٰ ہاؤس میں جاری رہا، پی ٹی آئی ذرائع اور وزیر اطلاعات شفیع جان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لانگ مارچ پانچ اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
تاہم کارکن چار اکتوبر کو نکلیں گے اور مرحلہ وار لانگ مارچ آگے بڑھتا ہوا صوابی پانچ اکتوبر کو پہنچے گا جہاں وہ بانی پی ٹی آئی کی سالگرہ کا کیک کاٹیں اور جلسہ بھی کریں گے۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ برقرار ہے، کوئی ابہام نہیں، بیرسٹر گوہر
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کے لیے اعلان کردہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ برقرار ہے اور اسے مؤخر کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن رہنما کو پارٹی کے فیصلوں اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی سے آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنماؤں سے مشاورت معمول کا سیاسی عمل ہے۔
27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’’ہمارا لانگ مارچ برقرار ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے پارٹی قیادت کو اختیار دے رکھا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی سیاسی فیصلے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے کرتی ہے اور اہم فیصلوں سے اپنے سینئر سیاسی اتحادیوں کو بھی آگاہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو اپنے سینئرز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کیا کہ پارٹی نے اپنے اپوزیشن اتحادیوں کو احتجاج کے شیڈول میں تبدیلی سے آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ مؤخر کرنے کا کوئی فیصلہ انہیں نہیں بتایا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ اسلام آباد پہنچنے سے قبل وہ میانوالی گئے تھے جہاں انہوں نے زیرحراست پی ٹی آئی رکن اسمبلی کے اہل خانہ سے ملاقات کی، جس کے بعد اسلام آباد آکر سیاسی رہنماؤں کو پارٹی کے فیصلوں اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔
قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمارا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، مارچ پر امن ہے، چاہے یہ سڑکوں پر کنٹینر رکھیں یا کیلیں بچھائیں، چاہے گولی چلائیں، اس بار ہم نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے۔
انہوں نے پریس کانفرنس کے شروع میں ایک ویڈیو کلپ بھی چلایا گیا جس میں اٹک پل پر کیلوں کا جال بچھا دکھایا گیا۔ اس ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے پل کو ناقابل رسائی بنایا گیا ہے۔اس کا مطلب خیبر پختونخوا کے عوام کیا یہ سمجھیں کہ خیبر پختونخوا کو باقی ملک سے کاٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ مارچ میں شامل مظاہرین پر پر تشدد ہونے کے الزامات لگا کر انہیں روکنے کے لیے متعدد سخت اقدامات بھی کیے گئے ہیں تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کی منظوری تک احتجاج ملتوی نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
سہیل آفریدی نے مریم نواز کے پنجاب کو ‘پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی’ کے خطرے کے متنازع بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تین صوبوں کو دہشت گرد اور خیبرپختونوا کی عوام کو جنگلی کہنے سے کیا یہ سمجھا جائے کہ “پاکستان کو توڑنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع ہو گیا ہے؟”
واضح رہے کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک متنازع بیان میں پختونخوا پر مسلط افراد کو پختون ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “یہ گندے،گھٹیا جنگلی ہیں۔”
ان گھٹیا لوگوں کو میں تو پختون نہیں مانتی اور جو ان کو پختون کہیں وہ گالی دے رہے ہیں پختونوں کو
یہ گندے،گھٹیا جنگلی ہیں اور بدقسمتی سے پختونوں پہ مسلط ہیں pic.twitter.com/UJiAb6wZjg— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) September 12, 2026
ان بیانات پر نہ صرف پی ٹی آئی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آئے تھے بلکہ وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ بھی کہے تھے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ “پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور ہم بچائیں گے پاکستان کو لیکن بہرحال ان کی نیت میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔”
اس کے علاوہ انہوں نے پنجاب کے حکام پر ان کے صوبے میں “گھس کر یہاں کے سرکاری لوگوں کے ساتھ گتھم گھتا” ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مخالفین کی تمام تر توجہ صرف پی ٹی آئی کے وزرا پر ہے اور وہ رہنماؤں کو گرفتار کر کے انتشار اور گھبراہٹ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے وہ ڈر جائیں گے یا اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔
اس پریس کانفرنس سے کچھ دیر پہلے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی سے ملاقات ہوئی جس میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں، اس کے انتظامات اور آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی پر مشاورت کی گئی۔
محمود خان اچکزئی کے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال، امن و امان اور صوبائی خودمختاری کو درپیش چیلنجز سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی رابطوں اور مشاورت کے عمل کو مزید مضبوط اور مربوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
‘دہشت گرد ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے’
قبل ازیں سہیل آفریدی سکیورٹی تھریٹ کے باعث خالی کرائی گئی سول سیکرٹریٹ کی عمارت پہنچے اور چیف سیکرٹری کے ہمراہ مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی۔
پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی نے اس تھریٹ کو ‘جعلی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست میں اتنا نہیں گرنا چاہیے کہ کل ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کے قابل بھی نہ رہیں، کوئی تھریٹ نہیں تھا اور سیکرٹریٹ کینٹ کے علاقے میں آتا ہے جو مکمل طور پر سیکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دہشت گرد سیکرٹریٹ تک پہنچ سکتا ہے تو پھر سیکیورٹی لائن کیا کر رہی ہے؟
سیکرٹریٹ میں نمازِ کے بعد انہوں نے چیف سیکرٹری آفس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ لی تھی اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سول سیکرٹریٹ مسجد میں نماز کی ادائیگی دہشت گردی کے خلاف ایک واضح پیغام ہے، دہشت گرد ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور عوام و حکومت ہرگز سر نہیں جھکائیں گے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا تھا کہ دہشت گردی کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے گا اور عوام کی جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔



