اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا حکومت پر دہشتگردوں کی سہولت کاری کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال سے لاعلم ہے اور دہشتگردوں کے خلاف اقدامات سے گریزاں ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتوں کو دہشتگردوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کے بقول تحریک انصاف دہشتگردوں کی منظورِ نظر جماعت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نہ صرف دہشتگردوں کی مذمت کرنے سے گریز کرتی ہے بلکہ ان کے خلاف کارروائی سے بھی گریزاں ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے تحریک انصاف کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ’’بی ٹیم‘‘ اور کالعدم تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کی ’’سی ٹیم‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری کرنا پی ٹی آئی کی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردوں کی سہولت کاری سے باز رہنا چاہیے۔
عطا تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کم اور ٹی ٹی پی کے کمانڈر زیادہ نظر آتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنا ہی نہیں چاہتے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کے بقول سکیورٹی فورسز دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہیں اور دہشتگردوں کا مکمل صفایا کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
عطا تارڑ نے افغانستان سے ہونے والی مبینہ فائرنگ اور دراندازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرم ایجنسی میں افغانستان کی جانب سے پاکستان پر فائرنگ کی گئی تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس کی مذمت تک نہیں کی، انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر مذمت نہ کرنا بزدلی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے دھرنے کے لیے کسی قسم کی تیاری نہیں ہے، انہوں نے چیلنج کیا کہ ’’ہمت ہے تو آؤ، لانگ مارچ کرو‘‘ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف دھرنے اور لانگ مارچ سے بھاگ گئی ہے۔
عطا تارڑ نے مزید الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف پولیس کو سیاسی فورس بنانا چاہتی ہے اور خیبرپختونخوا حکومت غیرقانونی ٹھیکوں میں بھی ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں عوام بے یار و مددگار ہیں اور صوبائی حکومت کو امن و امان کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق ایک سال کے دوران ملک میں 2,456 دہشتگرد حملے ہوئے، جو اوسطاً روزانہ تقریباً 10 حملے بنتے ہیں۔ ان کے مطابق ان واقعات میں پولیس، رینجرز، ایف سی اور فوج کے 472 اہلکار شہید جبکہ 1,500 سے زائد زخمی ہوئے۔



