نیویارک: فلسطین کے صدر محمود عباس نے پابندیاں فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
فلسطین کے صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کو جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت سے روکنا ناقابل قبول ہے، جبکہ اسرائیل فلسطین کے عوام پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی ویزا پابندیوں کے باعث محمود عباس کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت دی تھی۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال کو نسل کشی کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فلسطین کے عوام کی نسل کشی کر رہا ہے۔ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی قبضہ بڑھایا جا رہا ہے۔ جبکہ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔
محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی وفد کو روکنا بطور میزبان امریکا کی ذمہ داریوں کی نفی ہے، جبکہ غزہ کے عوام کو قتل و غارت، تباہی اور بھوک کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن منصوبے کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اس حوالے سے اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے حالات سنگین ہیں جبکہ فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اور نسل کشی کی جنگ شدید ہوتی جا رہی ہے، غزہ کے عوام کو اپنے ہی گھروں میں شہید کیا جا رہا ہے۔
فلسطنی صدر محمود عباس نے مطالبہ کیا کہ فلسطین پر عائد پابندیاں فوری طور پر واپس لی جائیں۔ جبکہ مغربی کنارے میں آبادکاروں پر تشدد کی روک تھام کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ہم دہشتگرد نہیں، اسرائیلی و امریکی حملے کا دفاع کیا، ایرانی صدر
گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم دہشتگرد نہیں، امریکا اور اسرائیل نے ہم پر حملہ کیا اور ایران نے صرف اپنا دفاع کیا۔ جبکہ ایٹمی توانائی ہمارے ترقی کا حصہ اور پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دوسروں کی سکیورٹی کی قیمت پر اپنی سکیورٹی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، اور ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ایٹمی توانائی پر چند ممالک کی اجارہ داری رہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم کچھ لوگوں کو آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت اور ایران کے خلاف کارروائیاں شروع کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے اپنے دفاع میں کارروائی کی۔ انہوں نے تہران کو دہشت گرد ریاست قرار دینے کے الزامات مسترد کردیئے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہم پر حملہ کیا، لیکن ہم نے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے ہمیں نشانہ بنایا اور حملہ کیا، لیکن ہم نے صرف اپنا دفاع کیا۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔
ایرانی صدر نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران دہشت گرد ریاست ہوتا تو وہ اقوام متحدہ میں آکر جنرل اسمبلی سے خطاب کیوں کرتا۔
انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے حملوں کا جواب دیا، تاہم شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا۔



