غزہ بورڈ آف پیس نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 6 ماہ میں 2 ارب 45 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا۔ تاہم حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اس منصوبے کا مستقبل غیر یقینی ہے کیونکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی شرائط پر اختلاف برقرار ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بورڈ حکام نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں منصوبے کی تفصیلات پیش کیں۔
بورڈ آف پیس کے مطابق منصوبے میں غزہ کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کی بحالی کے لیے 66 پروگرام شامل ہیں، جو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تباہ ہو چکے ہیں۔
یہ منصوبہ ٹرمپ کی غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی تازہ کوشش ہے۔ جنگ بندی کا اعلان تقریباً ایک سال قبل کیا گیا تھا، تاہم غزہ میں اسرائیلی حملے مکمل طور پر نہیں رک سکے۔ بدھ کو بھی ایک اسرائیلی حملے میں حماس کے ایک عہدیدار سمیت 4 افراد شہید ہوئے۔
“منصوبہ طویل المدتی ہے، امریکی وزیر خارجہ”
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ طویل مدتی منصوبہ ہے اور ایسا نہیں کہ اسے 6 ماہ میں مکمل کر لیا جائے، تاہم کم از کم یہ لوگوں کو امید فراہم کرتا ہے کہ اگر تمام فریق اپنا کردار ادا کریں تو مستقبل آپ کا منتظر ہے۔
ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جنہوں نے غزہ کا منصوبہ تیار کیا، نے بھی تسلیم کیا کہ مختلف معاملات پر مختلف وجوہات کی بنا پر منصوبے میں تاخیر کا سامنا ہے۔ منصوبے کو مزید بہتر اور حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اس وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے جب عملی طور پر تعمیرِ نو شروع کی جا سکے۔
خیال رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کو تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود تعمیرِ نو کا عمل شروع نہیں ہو سکا کیونکہ مذاکرات کار حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی فوج کے انخلاء کی شرائط پر اتفاق نہیں کر سکے۔
رائٹرز کے مطابق غزہ میں زیادہ تر عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ 20 لاکھ سے زائد آبادی علاقے کے تقریباً ایک تہائی حصے تک محدود ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں کے اندر رہنے پر مجبور ہیں۔
غزہ میں نقصان کا تخمینہ 35 ارب 20 کروڑ ڈالر ہے
بورڈ آف پیس کے مطابق غزہ میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ 35 ارب 20 کروڑ ڈالر ہے، جبکہ مکمل بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے اگلے 10 برس کے دوران تقریباً 71 ارب 40 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے۔
واضح رہے غزہ میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,381 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 300 بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 73,900 سے تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ، 75 ہزار ہے۔



