واشنگٹن: چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چین میں سرمایہ کاری کے دروازے کھلے ہیں ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی، جس میں تجارت، مصنوعی ذہانت، معیشت، سفارت کاری اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی صدر کی وائٹ ہاؤس آمد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے شی جن پنگ کے ساتھ انتہائی شاندار دوستی قائم کر لی ہے اور انہیں امریکا اور چین کے تعلقات پر فخر ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے امریکا اور چین کو درپیش مسائل پر زبردست پیش رفت کی ہے اور دونوں ممالک زیادہ متوازن تجارتی تعلقات کی سمت کام کر رہے ہیں، امریکی صدر نے چینی صدر اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا امریکا آمد پر شکریہ بھی ادا کیا۔
ملاقات کے دوران مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، ٹرمپ نے بتایا کہ شی جن پنگ کے ساتھ تجارت اور سپر انٹیلیجنس سمیت اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔
چینی صدر شی جن پنگ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے استقبال پر صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوبصورت ملک امریکا کا دورہ کرکے خوشی ہو رہی ہے۔
شی جن پنگ نے امریکی عوام کو امریکا کی 250ویں سالگرہ پر مبارکباد اور نیک خواہشات بھی پیش کیں، ان کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا انسانی ترقی کو فروغ دینے کی ذمہ داری رکھتے ہیں اور وہ چین امریکا تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہیں۔
چینی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کو رابطے اور مذاکرات کو فروغ دینا چاہیے۔ چین سفارت کاری، تجارت، معیشت اور قانون نافذ کرنے والے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
شی جن پنگ نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چین میں سرمایہ کاری کے دروازے کھلے ہیں جبکہ امید ہے کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ امریکا میں بھی اچھا اور منصفانہ رویہ اختیار کیا جائے گا۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے پاس انسانوں کی بھلائی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو تیار کرنے اور اسے ذمہ داری کے ساتھ سنبھالنے کی صلاحیت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو چین آنے کی دعوت
چینی صدر نے دونوں ممالک کے عوام خصوصاً نوجوانوں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے بھی اہم اعلان کیا، شی جن پنگ نے کہا کہ چین آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی نوجوان چین آئیں، وہاں تعلیم حاصل کریں اور روزگار کے مواقع سے استفادہ کریں، چینی صدر نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور روابط کو فروغ دینے کی کوشش قرار دیا۔
تجارت اور عالمی امور ایجنڈے میں شامل
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تعلقات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارتی رکاوٹوں، نایاب معدنیات، زرعی مصنوعات اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔
مصنوعی ذہانت بھی ملاقات کا اہم موضوع ہے جبکہ ایران جنگ، تائیوان اور دیگر عالمی و علاقائی معاملات بھی دونوں رہنماؤں کی گفتگو کا حصہ بن سکتے ہیں۔
شی جن پنگ کا واشنگٹن کا یہ دورہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد ہو رہا ہے، چینی صدر بدھ کی شام امریکا پہنچے تھے، جہاں صدر ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر خود ان کا استقبال کیا۔
ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی جانب سے چینی صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں سرکاری عشائیہ بھی دیا جائے گا۔



