ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری جاری رکھنے کے عندیے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت 92 سینٹ یعنی 0.9 فیصد کمی کے بعد 102.16 ڈالر فی بیرل، جبکہ امریکی خام تیل ’ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ‘ کی قیمت 77 سینٹ یعنی 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 91.39 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
اس سے ایک روز قبل تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بالترتیب ایک روپے 93 پیسے اور 4 روپے 21 پیسے کی کمی کی جس کے بعد ملک میں پیٹرول کی قیمت 390 روپے 12 پیسے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 414 روپے 75 پیسے ہو گئی۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر اب بھی اختلافات موجود ہیں، تاہم ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ سفارت کاری کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران امریکی امن تجاویز پر غور کر رہا ہے، جن میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ترجیحی نکات ہیں۔
تہران میں سکیورٹی امور کے عہدیدار محسن رضائی نے اس سے قبل کہا تھا کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پیش رفت کی امید اور خلیجی خطے سے تیل کی سپلائی میں بحالی کے امکانات پیدا ہوئے جس سے قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑ رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے لیے طویل مذاکرات اور محنت درکار ہوگی، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس فوجی کارروائی کے راستے بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں ڈیزل کی برآمد پر ممکنہ امریکی پابندی کے حوالے سے بھی سرمایہ کاروں نے نظر رکھی ہوئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے پولیٹیکو کی رپورٹ کے بعد انتہائی کم سلفر والے ڈیزل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ڈیزل کی برآمد پر 90 روزہ پابندی کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ایسی کسی منصوبہ بندی کی تردید کردی۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بھی کہا تھا کہ ڈیزل کی برآمد پر پابندی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، اگرچہ صدر ٹرمپ اس کی حمایت کا عندیہ دے چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی پابندی سے توانائی کی بلند قیمتوں میں کمی لانے میں زیادہ مدد نہیں ملے گی بلکہ عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی مزید متاثر ہوسکتی ہے اور معیشتوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت امریکی ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر 4 لاکھ 28 ہزار بیرل کم ہوکر 10 کروڑ 74 لاکھ بیرل رہ گئے۔
اس کے برعکس امریکی خام تیل کے ذخائر 30 لاکھ بیرل اضافے کے بعد 42 کروڑ 64 لاکھ بیرل ہوگئے، جبکہ رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے 6 لاکھ 41 ہزار بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔



