ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے نیویارک میں سفارتی رابطے تیز ہوگئے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام اور ثالثوں سے ملاقات کی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی اور ایرانی فریق کے درمیان ہونے والی ملاقات تقریباً 3 گھنٹے جاری رہی اور یہ ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز‘ رہی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک اور ملاقات جلد متوقع ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران نے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا سے رابطہ کیا ہے۔
امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے بھی مذاکرات سے متعلق یہی مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ثالثوں کے ذریعے ایرانی وفد سے طویل بالواسطہ مذاکرات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالث دن بھر دونوں فریقوں کے پاس آتے جاتے رہے، ایک دور کامیابی سے مکمل ہوا ہے جس کے تعمیری ثابت ہونے کی امید ہے۔
The purpose of this communication was to relay Iran’s demands. These included bringing an end to the fighting across all fronts, halting US’ aggressive measures, lifting the naval siege and economic warfare, unfreezing Iran’s assets, and more.
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) September 23, 2026
رائٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا سے مزید رپورٹ کیا ہے کہ اسٹیو وٹکوف کے ‘پر زور اصرار پر’ عباس عراقچی نے ان سے ملاقات کی اور انہیں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، معاشی پابندیاں ہٹانے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے کی شرائط کے بارے آگاہ کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے امریکی فوجی دباؤ کم کرنا اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ضروری ہوگا۔
اس سے قبل ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے تو ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے تیار ہیں
دوسری جانب ٹرمپ نے اسی روز کہا کہ انہیں ایران کے ساتھ معاہدے یا جنگ جاری رکھنے کے حوالے سے ’ایک بڑا فیصلہ‘ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کو دوبارہ تعمیر کا موقع دینے والے معاہدے یا اسلامی جمہوریہ کو ’تباہ‘ کرنے کے درمیان فیصلہ کریں گے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد کیا جائے گا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ تقریباً 7 ماہ سے جاری ہے۔ مذاکرات کی تازہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہے جس سے توانائی کی عالمی منڈیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں، تاہم دونوں صدور کے درمیان براہ راست ملاقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
