ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی ریاستی خبررساں ادارہ (ریا نووستی) کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور اس کے خطے پر پڑنے والے اثرات پر گفتگو کی۔
بات چیت کے دوران دونوں جانب سے تنازع کے مزید جغرافیائی علاقوں تک پھیلنے کے حقیقی خطرات پرشدید تشویش کا اظہارکیا گیا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس بات پرزوردیا کہ موجودہ انتہائی خطرناک صورتحال کا حل سیاسی اورسفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تنازع کے پھیلاؤ سے مزید عرب ممالک متاثر ہوسکتے ہیں اوراس کے نتیجے میں انتہائی سنگین اور تباہ کن حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں روس مثبت اوراستحکام پیدا کرنے والا کردارادا کرسکتا ہے۔
ان کے مطابق روس کے ایران اور خلیجی ریاستوں دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے وہ کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنا کردارادا کرسکتا ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو میں خطے میں امن و استحکام کی ضرورت اورموجودہ بحران کوسفارتی کوششوں کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر بھی زوردیا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 19 اگست 2026 کو بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور روسی صدرولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلیفون پرگفتگو ہوئی تھی، جس میں روسی سعودی تعاون اور OPEC+ سمیت دیگر امور پر بات ہوئی تھی۔



