امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا اداروں، سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر پابندی عائد کرنے کے بعد ‘ٹرمپ ٹی وی’ کے نام سے ایک آن لائن ویڈیو اسٹریمنگ شروع کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر ٹرمپ انتظامیہ کی کامیابیوں سے متعلق ویڈیوز، نمایاں واقعات اور ضروری معلومات نشر کی جائیں گی۔
یہ قدم اٹھانے سے قبل جن میڈیا اداروں پر وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی، انہوں نے عدالت میں حکم امتناع کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ اقدام امریکی آئین کے تحت آزادی اظہار اور آزاد صحافت کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
I am proud to announce that, effective immediately, I am banning Fake News CNN, MSNOW (who recently changed their name from MSNBC due to lack of viewership and credibility!), and Politico (The recipients of an illegal and ridiculous $8 Million Dollar subscription, an All Time…
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) September 19, 2026
دوسری جانب سوشل میڈیا پر تینوں اداروں پر پابندی کا اعلان کرنے والے صدر ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ یہ میڈیا ادارے صدر کی کوریج کے دوران مسلسل ’افسانے اور جھوٹ‘ شائع یا نشر کرتے ہیں۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس آزاد صحافت پر حملہ نہیں کر رہا بلکہ ’فیک نیوز‘ کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بھی قرار دیا، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
تشہیری ویڈیو میں ہالی ووڈ شوز کے مناظر شامل
ٹرمپ نے معروف فنکاروں کی جانب سے اپنی مہمات اور تشہیری مواد میں ان کے گانوں کے مبینہ غیر مجاز استعمال پر اعتراضات کے باوجود ‘ٹرمپ ٹی وی’ کی تشہیری ویڈیو میں متعدد مقبول ٹی وی شوز اور فلموں کے مناظر شامل کیے ہیں۔
ویڈیو میں ’فرینڈز‘، ’دی سمپسنز‘، ’فیملی گائے‘، ’ہوم الون‘، ’ماڈرن فیملی‘، ’بریکنگ بیڈ‘، ’دی ڈارک نائٹ‘، ’دی آفس‘، ’اسپونج بوب اسکوائر پینٹس‘، ’پارکس اینڈ ریکریشن‘ اور ’دَیٹ 70s شو‘ سمیت کئی مقبول پروڈکشنز کے ویڈیو کلپس استعمال کیے گئے ہیں۔
ان میں سے متعدد پروگراموں اور فلموں کے حقوق و ملکیت وارنر برادرز، فاکس، نکلوڈیئن، سونی پکچرز ٹیلی وژن، ڈزنی اور این بی سی یونیورسل سمیت بڑے میڈیا اداروں کے پاس ہیں۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے مقبول فلموں یا ٹی وی کے مواد کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال کیا ہو۔ وہ اس سے قبل بھی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایسی ویڈیوز شیئر کر چکے ہیں جن میں ’ٹاپ گن‘ جیسی معروف فلموں کے مناظر شامل تھے۔
تاہم ٹرمپ ٹی وی کی تازہ تشہیری ویڈیو میں مختلف فلموں اور ٹی وی شوز کے مواد کا وسیع پیمانے پر استعمال نمایاں ہے۔
‘ٹرمپ ٹی وی’ پروپیگنڈا جاری رکھنے کا ذریعہ
‘ٹرمپ ٹی وی’ ایک نئی تشہیری کوشش ہے جسے کولمبیا یونیورسٹی کے نائٹ فرسٹ امینڈمنٹ انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جمیل جعفر سمیت متعدد ماہرین ’حکومتی پروپیگنڈے کا تسلسل‘ قرار دے رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے ‘ٹرمپ ٹی وی’ کو بنیادی طور پر ’ریاستی ٹیلی وژن‘ کی ایک شکل قرار دیا ہے۔
“It’s just biased news. I think that these outlets have an obligation to be fair, and if they’re fake news, I really think I have an obligation not to allow them…” – President Donald J. Trump 🇺🇸 pic.twitter.com/67MuMR6rxn
— The White House (@WhiteHouse) September 21, 2026
تاہم ٹرمپ انتظامیہ اسے ’دی ایسینشلز اسٹیشن‘ یعنی ’ضروری معلومات کا چینل‘ کہہ رہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس سروس کے ذریعے صدر اور حکومت کی اہم تقریبات کی براہِ راست نشریات فراہم کی جائیں گی۔
چینل پر جاری ویڈیوز کی کوالٹی انتہائی ناقص
سی این این پا پابندی کے بعد ٹرمپ کی کورریج بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ اس کے متبادل کے طورپر وائٹ ہاؤس کے یوٹیوب پر نشر کی جانے والی ویڈیوز کی کوالٹی انتہائی ناقص ہے۔
نئے پلیٹ فارم کے آغاز پر 60 سیکنڈ کی ایک تشہیری ویڈیو میں ٹرمپ کی 2024 کے صدارتی الیکشن میں کامیابی دکھائی گئی، جبکہ پہلی براہِ راست ویڈیو میں 3 جولائی کو ماؤنٹ رشمور میں ٹرمپ کی تقریر نشر کی گئی۔
یوٹیوب پر آغاز کے 15 منٹ بعد ہی اس اسٹریم کو تقریباً 8 ہزار افراد براہِ راست دیکھ رہے تھے۔
