سعودی عرب کی سول ڈیفنس نے جنوبی صوبے نجران میں ممکنہ خطرے کے حوالے سے جاری کردہ الرٹ کے بعد خطرہ ٹل جانے کا اعلان کر دیا۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق سعودی سول ڈیفنس نے کہا ہے کہ نجران میں خطرہ اب ختم ہو گیا ہے، شہری اپنی حفاظت کیلئے حکومتی ہدایت پر عمل کریں اور کسی بھی صورت اجتماع یا خطرے کی جگہ کی ویڈیو بنانے سے گریز کریں۔
اس سے قبل نجران میں قومی ہنگامی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یہ صورتحال سعودی مملکت اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پیش آئی ہے۔ حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں کے خلاف بحیرہ احمر میں سمندری ناکا بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے ہیں۔
سول ڈیفنس نے ہنگامی صورتِ حال کے دوران پرسکون رہنے اور عمارت کے اندر محفوظ مقام یا کھڑکیوں سے دور کسی اندرونی کمرے میں منتقل ہونے کی ہدایت کی تھی، خطرہ ختم ہونے کی تصدیق تک محفوظ مقام سے باہر نہ نکلنے پر بھی زور دیا گیا تھا۔
تنبيه زال الخطر عن منطقة نجران، لسلامتك الاستمرار في اتباع تعليمات #الدفاع_المدني وتجنب التجمهر والتصوير نهائيًا. في حالة الطوارئ اتصل بالرقم (998).
Alert: The danger has passed in Najran Province. For your safety, continue following #CivilDefense instructions and avoid gathering and filming. In case of emergency, call (998).
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) September 22, 2026
شہریوں کو کھلے مقامات، شیشوں، بالکونیوں اور چھتوں سے دور رہنے جبکہ باہر موجود افراد کو قریبی عمارت میں پناہ لینے یا کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے محفوظ ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ سڑکوں پر موجود ڈرائیورز سے انتباہ موصول ہونے کی صورت میں پلوں اور بلند عمارتوں سے دور سڑک کے کنارے گاڑی روکنے کا بھی کہا گیا تھا۔
حکام کے مطابق شہری مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں ہنگامی صورتحال کی صورت میں 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 998 پر رابطہ کریں۔
خیال رہے سعودی عرب مارچ 2015 سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ یہ اتحاد حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے، جس نے ستمبر 2014 سے دارالحکومت صنعاء اور کئی دیگر صوبوں پر کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔
یمن کے حوثیوں نے کچھ عرصے سے ریاض اور مدینہ سمیت سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔



