وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے، فلسطینیوں کے حقوق اور انصاف کے حصول کیلئے مسلم امہ کو یک زبان ہونا ہو گا۔
نیویارک میں او آئی سی کمیٹی برائے فلسطین سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین او آئی سی اور مسلم امہ کے اجتماعی شعور کیلئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کمیٹی پر فلسطینیوں کیلئے سیاسی وسفارتی حمایت متحرک کرنے کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے، غزہ میں جنگ بندی کی تقریباً روزانہ خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں، آبادکاروں کا تشدد، الحاق کی پالیسیاں اور دیگر خلاف ورزیاں مقبوضہ فلسطینی علاقے کی علاقائی سالمیت ، جغرافیائی تسلسل اور فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔
“مقدس مقامات کی تاریخی، قانونی حیثیت کو محفوظ بنانے کیلئے کام کرنا چاہیے”
ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی برائے فلسطین کو مسجد اقصیٰ، حرم شریف اور بیت المقدس میں تمام اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو محفوظ بنانے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں میں توسیع، الحاق کے اقدامات، آبادکاروں کے تشدد اور جبری بے دخلی کو مسترد کرنے کے حوالے سے کام کرنا چاہیے۔
🔈 PR No. 2️⃣5️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 at the OIC Committee of Six on Palestine.
🔗⬇️ https://t.co/QUuRPnDJVA
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 22, 2026
اسحاق ڈار نے کہا کہ کمیٹی کو غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور حقیقی معنوں میں عملدرآمد، غزہ کی تعمیر نو اور انتظامی امور فلسطینی قیادت میں ہونا، بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کی حمایت اور فلسطینی عوام کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر او آئی سی رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی ترجیحات پر کام جاری رکھنا چاہیے۔
“آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کیلئے عالمی کوششوں کو برقرار رکھنا ہو گا”
وزیر خارجہ نے کہا کہ سیاسی عمل کے لیے عالمی کوششوں کو برقرار رکھنا ہو گا جس کے نتیجے میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی حمایت بھی جاری رکھی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برادر اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین کے مقصد کو آگے بڑھانے اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل کے فروغ کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر عالمی خاموشی مجرمانہ ہے، عالمی برادری فلسطینیوں پر جاری مظالم کو رکوانے کیلئے فوری اقدامات کرے، اور محاصرہ زدہ فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پائیدار امن کے قیام کیلئے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی غزہ تنازع کے خاتمے کیلئے کوششیں قابل تعریف ہیں، اقوام متحدہ اور عالمی عدالتیں جنگی جرائم کے احتساب کیلئے کردار ادا کریں۔



