امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اختتام کے قریب ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں کشیدگی مزید پھیل چکی ہے اور سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کے درمیان لڑائی شدت سے جاری ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کے بیان کے برعکس جنگ ختم ہونے کے بجائے مزید پھیل چکی ہے جہاں سعودی طیاروں نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے جبکہ حوثی جنگجوؤں نے سعودی شہروں پر ڈرون اور میزائل داغے۔
بحیرۂ احمر کے ساتھ یمن میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی، سعودی عرب پر حملے اور سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچانے والے حملوں نے جنگ میں ایران کا کردار مزید وسیع اور اس کی پوزیشن مزید مستحکم کر دی ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی رسد کو درپیش خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
تنازع یمن تک پھیلنے کے بعد امریکا نے سعودی عرب کی طرف سفر پر مزید سخت وارننگ جاری کی ہیں اور امریکی سرکاری ملازمین کو یمن کی سرحد سے 30 کلومیٹر کے اندر سفر کرنے سے روک دیا ہے۔
تاہم سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی کی اطلاعات کے چند گھنٹے بعد بدھ کی شام صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا، ’’امید ہے ہم جنگ کے اختتام کے قریب ہیں۔‘‘
ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ’’دیکھتے ہیں یہ کیسے آگے بڑھتا ہے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے ان سے براہ راست رابطہ کیا گیا ہے تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
ایران جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے تہران پر مشترکہ حملوں سے شروع ہوئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ٹرمپ اس سے قبل بھی مختلف دعوے کرچکے ہیں۔
جنگ سے پوری دنیا متاثر
جنگ کے یمن تک پھیلنے سے عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پہلے ہی شدید متاثر ہے۔ جنگ سے قبل اس آبنائے کے ذریعے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی عالمی تجارت ہوتی تھی۔
تاجروں کے مطابق سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی طویل بندش سے عالمی تیل کی رسد میں 4 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ سعودی عرب نے تاحال پائپ لائن کی بحالی کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔
بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 108 ڈالر فی بیرل رہی، جو مئی کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ تاہم جمعرات کی ابتدائی تجارت میں سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی ترسیل کی اطلاعات کے بعد قیمتیں نیچے آگئیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 1.24 ڈالر یا 1.2 فیصد کمی کے بعد 104.59 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.14 ڈالر یا 1.1 فیصد کمی کے بعد 101.29 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی اہم سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔
ٹرمپ خلیجی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے
ادھر ’ایکسِیوس‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ ستمبر 22 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں یا وزرائے خارجہ سے ملاقات کرسکتے ہیں، جس میں جنگ کی آئندہ حکمت عملی پر بات چیت متوقع ہے۔ خلیج
تعاون کونسل میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان شامل ہیں۔
حوثیوں نے جنگ کی ویڈیو بھی جاری کردی
حوثیوں نے بدھ کو میدان جنگ کی ویڈیو بھی جاری کی جس میں سعودی حمایت یافتہ فورسز سے بکتر بند گاڑیاں قبضے میں لیتے ہوئے جنگجوؤں کو دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں جنگی طیاروں کی پرواز اور صحرا میں بڑے دھماکوں کے مناظر بھی دکھائے گئے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ نے سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ ینبع اور جنوبی سعودی عرب کے خمیس مشیط میں ایک فضائی اڈے پر تازہ ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ انہوں نے حملوں کا وقت نہیں بتایا۔
یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ سعودی طیاروں نے رواں ہفتے یمن پر 450 تک فضائی حملے کیے ہیں۔ جنوبی یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کی فورسز اور سعودی عرب حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں، تاہم ریاض نے ان حملوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
سعودی عرب 2015 سے حوثیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد کی قیادت کررہا ہے۔ حالیہ برسوں میں جنگ بندی کے باعث لڑائی بڑی حد تک کم ہوگئی تھی، تاہم جولائی میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان اور مملکت کے جنوبی علاقوں پر حملوں کے بعد تنازع دوبارہ شدت اختیار کرگیا۔



