سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پھیلاؤ کے دوران اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر فضائی حملے کے بعد اسے عارضی طور پر بند کردیا۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا ہے۔ سعودی عرب اور عراق کے مطابق پائپ لائن پر حملہ عراق سے کیا گیا، جہاں ایران نواز ملیشیا سرگرم ہیں۔
یہ پائپ لائن جزیرہ نما عرب کے راستے خام تیل کو مشرق سے مغرب تک منتقل کرتی ہے اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی بحری رکاوٹ کے باعث سعودی عرب کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
🔥🌏Just to put the sheer SCALE of this attack into perspective…
The smoke stretched more than 100 km across the Saudi desert and was visible from space even when zoomed all the way out to a global view of Earth.
See for yourself: https://t.co/qLhyb7cH8v pic.twitter.com/z5kmQa2dTx
— Soar (@SoarAtlas) September 11, 2026
جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں اس پائپ لائن سے روزانہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا رہا تھا، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد بنتا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق پائپ لائن کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں بعض افراد زخمی ہوئے جبکہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں مدینہ کے جنوب میں پائپ لائن کے قریب دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
#Statement | The Foreign Ministry expresses the Kingdom of Saudi Arabia’s strongest condemnation of targetting the East-West Pipeline in the Riyadh and Madinah regions by several drones launched from Iraq, which resulted in injuries and some damage that is currently being… pic.twitter.com/QFqSiMWQWr
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) September 11, 2026
حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی۔ سعودی عرب نے عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال جوابی کارروائی سے گریز کیا ہے، تاہم سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ مملکت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
حوثی باغیوں کی پیش رفت جاری
دوسری جانب حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر کے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یمنی حکومت کے 4 ذرائع کے مطابق حوثیوں نے جمعہ کو بحیرۂ احمر کے داخلی راستے پر واقع اسٹریٹجک جزیرے پیرم پر قبضہ کرلیا۔
باب المندب آبنائے پر حوثیوں کا کنٹرول مضبوط ہونے کی صورت میں ایران کو امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں اہم تزویراتی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں خام تیل کی سپلائی 3 دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کی ایک وجہ باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حوثی اتحادی گروہوں کے حملے بھی ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔
یمنی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ حوثیوں کے قبضے میں جانے والے علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کرے گی۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحل پر حالیہ تیز رفتار پیش قدمی ایرانی پاسداران انقلاب کی براہِ راست رہنمائی میں ہوئی۔
رائٹرز نے ایرانی ذرائع سے دعویٰ کیا کہ ایران نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مزید فنڈز، ہتھیار اور اعلیٰ سطح کے افسران فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ایران حوثیوں کو اپنا اتحادی قرار دیتا ہے تاہم انہیں اپنا پراکسی فورس قرار دینے یا فوجی ہدایات دینے کی تردید کرتا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ سعودی بحری جہازوں کے سوا تمام جہازوں کے لیے سمندری آمدورفت محفوظ ہے، جبکہ سعودی جہازوں پر پہلے سے اعلان کردہ پابندی برقرار ہے۔
ٹرمپ سے مدد کی اپیل
ادھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کم از کم دو مرتبہ رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد طلب کی۔ ذرائع کے مطابق امریکا نے فی الحال براہِ راست فوجی کارروائی سے انکار کیا ہے تاہم سعودی عرب کو انٹیلی جنس شیئرنگ اور اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطوں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن سعودی عرب اور یمنی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔



