کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی عوامی تحریک نے پورے پاکستان کو جوڑ دیا ہے، غریب اور مڈل کلاس طبقہ مہنگائی کے باعث شدید پریشان ہے، جبکہ حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کردی ہے۔
کراچی میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ذخیرہ اندوز کامیاب ہوجاتا ہے اور کسان محروم رہ جاتا ہے، غریب اور متوسط طبقہ مشکلات کا شکار ہے اور روٹی کی قیمت 25 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی 18 سال سے برسراقتدار ہے، تاہم مسئلہ صرف کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ان وڈیروں اور جاگیرداروں کا ہے جو سیاسی نظام کو چلاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام روز روز بجلی مہنگی کیے جانے کی اذیت برداشت کررہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسوں کا بوجھ بھی عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔
آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی تنقید
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں جب لوڈشیڈنگ زیادہ ہورہی تھی تو اس وقت آئی پی پیز کا قیام عمل میں آیا، قوم پلانٹس لگانے کے پیسے بھی دے رہی ہے جبکہ ان کے مطابق آئی پی پیز ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز اور بجلی کے مسائل سمیت عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
جماعت اسلامی کے اپنے بیان کے مطابق اس کی تحریک کے دوران آئی پی پیز کے معاہدوں اور بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز سمیت مختلف معاملات پر حکومت سے مطالبات کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم کے پیٹرول ریلیف پر بھی تحفظات
حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کے اعلان کردہ پیٹرول ریلیف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے پیٹرول کے صارفین مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔
جماعت اسلامی پہلے ہی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 100 روپے فی لیٹر تک کے ریلیف کو پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا متبادل قرار دینے سے انکار کرچکی ہے اور لیوی میں کمی یا خاتمے کا مطالبہ کررہی ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کا چوتھا دور
دوسری جانب پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ کررہے ہیں جبکہ حکومتی کمیٹی میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سمیت دیگر وزرا شامل ہیں۔
لیاقت بلوچ کے مطابق حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان آج مذاکرات کا چوتھا دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاملے پر بھی حکومت سے مذاکرات کیے اور دلائل دیے گئے تو حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ بعض معاہدوں پر نظرثانی کی۔
’’ہمیں ریلیف کا کریڈٹ لینے کا شوق نہیں‘‘
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی کے دباؤ کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملتا ہے تو انہیں خوشی ہوگی، انہیں کسی ریلیف کا کریڈٹ لینے کا شوق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ ریلیف اسکیم میں ڈیزل پر انحصار کرنے والے شعبے کو نظر انداز کیا گیا ہے، اس لیے حکومت کو اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق حکومتی وفد نے یہ بات بھی تسلیم کی کہ بعض اقدامات اٹھانے سے پہلے مشاورت ہونی چاہیے تھی۔
حکومت نے مزید وقت مانگ لیا
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ حکومتی اتحاد نے مذاکراتی عمل پر مزید وقت مانگا ہے۔ اس سے قبل بھی حکومت کی جانب سے مذاکرات کے مختلف ادوار کے لیے اضافی وقت طلب کیا گیا تھا۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات میں پٹرولیم لیوی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، آئی پی پیز اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات زیر بحث آتے رہے ہیں۔
جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو مزید ریلیف دینے کا مطالبہ برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال بھی دے رکھی ہے۔



