بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی)کے نائب صدر راجیو شکلا نے بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی جانب سے ویمنز ایشیا کپ کی ٹرافی ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین محسن نقوی سے وصول نہ کرنے کے معاملے پر وضاحت کردی۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ٹرافی کے معاملے پر انہوں نے آپس میں مشاورت کی اور فیصلہ کیا کہ بھارتی ویمنز ٹیم محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کرے گی۔
VIDEO | On the Indian women’s cricket team not accepting the Women’s Asia Cup trophy from ACC Chairman Mohsin Naqvi, BCCI Vice-President Rajiv Shukla says, “Regarding the trophy, we discussed the matter among ourselves and decided that we would not accept it from him. That was… pic.twitter.com/of0JJarz78
— Press Trust of India (@PTI_News) September 14, 2026
انہوں نے کہا کہ یہ ان کا اجتماعی فیصلہ تھا اوربھارتی ٹیم کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ محسن نقوی نے جسے ٹرافی پیش کرنا تھی اسے پیش کی اور اس کے بعد وہاں سے چلے گئے۔
راجیو شکلا نے کہا کہ بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل درست ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی میچ ہوتا ہے تو وہاں سب لوگ موجود ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے ملاقات بھی ہوتی ہے اور پیشہ ورانہ حیثیت سے ایک دوسرے سے بات چیت بھی کی جاتی ہے۔ ان حالات میں انہیں نہیں لگتا کہ اس معاملے پر اتنی زیادہ تنقید ہونی چاہیے۔
بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے کیا کہا؟
قبل ازیں بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی جانب سے ویمنز ایشیا کپ کی ٹرافی ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین محسن نقوی سے وصول نہ کرنے کے معاملے پر وضاحت پیش کی تھی۔
ایک انٹرویو میں دیواجیت سائیکیا نے کہا کہ ایشیا کپ میں ٹرافی ایک متنازع معاملہ ہے۔
Watch: On Indian women’s cricket team did not accept the Women’s Asia Cup trophy from ACC Chair Mohsin Naqvi, BCCI Secretary Devajit Saikia says, “Trophy is a controversial thing in the Asia Cup, Our men’s team won the Asia Cup a year and a half ago. And our whole situation,… pic.twitter.com/2p5Q6bqS4L
— IANS (@ians_india) September 13, 2026
بی سی سی آئی سیکریٹری کے مطابق اپریل 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد بھارت کے شہریوں کی جانب سے دباؤ تھا کہ ملک کو اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں اور پاکستان کے ساتھ کرکٹ بھی نہیں کھیلنی چاہیے۔
دیواجیت سائیکیا نے کہا کہ اس صورتحال کے باوجود بھارتی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ کثیر ملکی ٹورنامنٹس میں ہر ملک کے خلاف کھیلنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی پالیسی کے تحت بھارت کثیر ملکی مقابلوں میں شرکت کرتا ہے اور ان ٹورنامنٹس میں دیگر ممالک کے خلاف کھیلتا ہے۔
بی سی سی آئی سیکریٹری نے بھارتی خواتین ٹیم کی جانب سے ایشیا کپ ٹرافی وصول نہ کرنے کے معاملے کو اسی پس منظر میں بیان کیا۔ ان کے مطابق اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے ساتھ کرکٹ تعلقات کے حوالے سے بھارت میں صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔
ایشیا کپ ٹرافی کا معاملہ کیا ہے؟
بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے ویمنز ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا تاہم ٹائٹل جیتنے کے بعد بھارتی کھلاڑی مقررہ ٹرافی تقریب میں شریک نہیں ہوئیں اور ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی۔
اس معاملے پر بھارتی ٹیم کے کوچ امول مزومدار نے بھی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ٹرافی کے بارے میں انہیں کوئی اطلاع نہیں کہ ٹیم کو یہ کب ملے گی۔
جیو نیوز کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر امول مزومدار نے کہا تھا کہ انہیں ٹرافی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اسے کب حاصل کیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ بی سی سی آئی کی ہدایت پر کیا گیا تو بھارتی کوچ نے کہا تھا کہ یہ مؤقف بی سی سی آئی نے اختیار کیا ہے اور ٹیم متحد ہوکراس کے ساتھ کھڑی ہے۔


