وزیراعظم کے مشیر اور رہنما مسلم لیگ ن اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو امن و امان کے لیے فراہم کیا جانے والا فنڈ کرپشن کی نظر ہورہا ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ اسلام آباد آنے والے تمام راستے کھلے ہیں، لیکن تحریک انصاف اب تک 10 ہزار افراد بھی سڑکوں پر نہیں نکال سکی۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے آج کہا کہ وہ چیف ایگزیکٹو ہیں، جبکہ شوکت یوسفزئی کہہ رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ کے احکامات کوئی نہیں مانتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیراعلیٰ کے احکامات کوئی نہیں مانتا تو سہیل آفریدی چیف ایگزیکٹو کیسے ہیں؟ آج وزیراعلیٰ کے ساتھ ایک وقت میں صرف 200 افراد موجود تھے۔ جبکہ اتنے بڑے صوبے میں 5 یا 6 ہزار افراد کے نکلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوا تھا۔ جو کرک سے ہوتا ہوا پیر کو کوہاٹ پہنچا۔ جبکہ یہ ضلع خیبر اور پشاور سے ہوتا ہوا صوابی پہنچے گا جس کے بعد آگے کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ آج پشاور، نوشہرہ اور مردان میں صوبائی حکومت کے خلاف بھی احتجاج کیا گیا، مظاہرین کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو گڈ گورننس پر توجہ دینی چاہیے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ڈرافٹ کو ویٹو کیا، اختیار ولی خان
انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کا وفد مذاکرات کے دوران ڈرافٹ پر رضامند تھا اور حکومت نے اپوزیشن کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، تاہم جب ڈرافٹ وزیراعلیٰ کو بھیجا گیا تو انہوں نے اسے ویٹو کر دیا۔
رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ حکومت عدالتی معاملات کے علاوہ تمام ریلیف دینے کے لیے تیار تھی، لیکن جب اپوزیشن کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا کہا گیا تو ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کو امن و امان کے لیے فراہم کیا جانے والا فنڈ کرپشن کی نظر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو ہر قیمت پر بچائیں گے اور اسے ہاتھ سے نکلتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نہ صوبے میں کام کرسکی ہے اور نہ کوئی پالیسی دے سکی ہے، جبکہ سب کو معلوم ہے کہ ان سے صوبہ نہیں سنبھالا جا رہا۔



