پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم رواں پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)کی جانب سے بطور مہمان کھلاڑی ایکشن میں نظر آئیں گے۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق بابر اعظم کو جاری پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے لیے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے بطور مہمان کھلاڑی سائن کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بابر اعظم نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے درخواست کی تھی کہ انہیں کسی ڈومیسٹک ٹیم کے اسکواڈ میں شامل کیا جائے تاکہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے طویل فارمیٹ سے اپنا رابطہ برقرار رکھ سکیں جس کے بعد پی سی بی نے او جی ڈی سی ایل کے ساتھ یہ انتظام کیا۔
بابر اعظم نے دسمبر 2022 کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی سنچری اسکور نہیں کی۔ انہوں نے کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈرا ہونے والے ٹیسٹ میچ میں 161 رنز کی اننگز کھیلی تھی جو اس فارمیٹ میں ان کی آخری سنچری ہے۔
2023 کے آغاز سے بابر اعظم کی ٹیسٹ کرکٹ میں اوسط 30.43 رہی ہے جو ان کی مجموعی ٹیسٹ اوسط سے 12.55 رنز کم ہے۔ اس عرصے کے دوران وہ 39 اننگز میں صرف 8 نصف سنچریاں اسکور کرسکے، جبکہ ایک مرحلے پر وہ مسلسل 18 اننگز میں 41 رنز سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
ان کی آخری ٹیسٹ سنچری کے بعد سب سے بڑی انفرادی اننگز 88 رنز ہے جو انہوں نے گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں کھیلی تھی۔ پاکستان نے یہ میچ جیت کر جولائی 2023 کے بعد پہلی مرتبہ بیرون ملک ٹیسٹ کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس فتح کے ساتھ پاکستان کی مسلسل 8 بیرون ملک ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سلسلہ بھی ختم ہوا۔
بابر اعظم کی فارم اور فرسٹ کلاس کرکٹ
بابر اعظم کی خراب فارم پاکستان کرکٹ میں بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے اور سابق کرکٹرز بھی مختلف فورمز پر ان کی تکنیک کا تجزیہ کرتے رہے ہیں۔
انگلینڈ کے حالیہ تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل دورے میں پاکستان کو 0-3 سے شکست ہوئی، جس کے بعد بابر اعظم کی فارم پر بحث مزید تیز ہوگئی۔ انگلینڈ کے فاسٹ بولرز نے لارڈز اور ایجبسٹن میں بابر اعظم کی شارٹ بال کے خلاف کمزوری کو ہدف بنایا۔ بابر اعظم انجری کے باعث ہیڈنگلے میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔
ان مشکلات کے باوجود بابر اعظم زیادہ تر ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ سے دور رہے اور گزشتہ ہفتے پی سی بی کی جانب سے رواں سیزن کی پریذیڈنٹ ٹرافی اور پریذیڈنٹ کپ کیلئے اسکواڈز کے اعلان کے وقت وہ 8 ٹیموں میں شامل نہیں تھے۔
بابر اعظم نے آخری مرتبہ 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں حصہ لیا تھا۔ اس وقت انہوں نے اب ختم ہوچکی سینٹرل پنجاب ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے قائداعظم ٹرافی کے فائنل میں ناردرن کو شکست دی تھی۔2019 کا سیزن 2015 کے بعد واحد سیزن تھا جس میں بابر اعظم نے ایک سے زیادہ ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میچ کھیلے تھے۔
رواں سیزن میں کئی عالمی سطح کے پاکستانی کرکٹرز نے پریذیڈنٹ ٹرافی میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے جن میں شاہین شاہ آفریدی اور سلمان آغا نمایاں ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری کیلئے ڈومیسٹک کرکٹ پر زور
پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں حالیہ ناقص نتائج کے بعد قومی ٹیم کے مستقل کھلاڑیوں کی ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ شرکت کا مطالبہ بھی سامنے آتا رہا ہے۔
پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹس میں بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی شرائط شامل ہیں۔ اے کیٹیگری، جس میں ٹیسٹ اسپیشلسٹ کھلاڑی شامل ہوتے ہیں، کے کھلاڑیوں کیلئے سال میں کم از کم 6 فرسٹ کلاس میچز کھیلنا لازمی ہے، جبکہ اے بی کیٹیگری، جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے اسپیشلسٹ شامل ہیں، کے کھلاڑیوں کیلئے کم از کم 4 فرسٹ کلاس میچز کی شرط ہے۔
بی سی کیٹیگری، جو وائٹ بال اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کیلئے ہے، میں شامل کھلاڑیوں کو کم از کم 2 فرسٹ کلاس میچز کھیلنا ہوتے ہیں۔
پاکستان کی ٹیسٹ رینکنگ
پاکستان اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے جبکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی 9 ٹیموں پر مشتمل پوائنٹس ٹیبل میں بھی آخری نمبر پر موجود ہے۔ گزشتہ سائیکل میں بھی پاکستان ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی ٹیبل پر آخری نمبر پر رہا تھا۔
پاکستان گزشتہ 4 آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بھی ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہیں کرسکا۔ 2025 کی ہوم چیمپئنز ٹرافی میں بھی پاکستان کو پہلے دو گروپ میچز میں نیوزی لینڈ اور بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد 5 دن کے اندر ایونٹ سے باہر ہونا پڑا تھا۔




