لاہور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس پر الزام عائد کیا کہ مجھے اغوا کیا گیا جبکہ پنجاب پولیس نے گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود اپنی مرضی سے پولیس وین میں بیٹھے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے اغوا کیا گیا”۔ جس پر پنجاب پولیس کو شرم آنی چاہیے، مجھے یہاں سڑک پر لاکر چھوڑا گیا ہے اور اگر مجھے پنجاب میں کچھ بھی ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت اور پنجاب پولیس ہو گی۔
View this post on Instagram
سہیل آفریدی کو حراست میں نہیں لیا، سربراہ لاہور پولیس
سربراہ لاہور پولیس نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ لاہور پولیس نے سہیل آفریدی کو حراست میں نہیں لیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پخنونخوا کو پولیس کے زیر حراست رکھنے کا تاثر حقائق کے منافی ہے، وہ خود اپنی مرضی سے پولیس وین میں چڑھ گئے اور ان کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس وین آگے بڑھی۔
لاہور پولیس سربراہ نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لیے سکیورٹی کی بھرپور انتظامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو حراست میں لیے جانے سے متعلق ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سہیل آفریدی کارکنان اور اپنی سکیورٹی کے ہمراہ لاہور میں موجود ہیں۔ اور وہ خود جا کر پولیس وین میں بیٹھ جاتے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار سہیل آفریدی کو پولیس وین سے باہر آنے کی درخواست کر رہا ہے لیکن وہ وین سے باہر آنے سے انکاری ہیں۔ جبکہ تھوڑی دیر بعد ڈرائیور گاڑی کو لے کر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ پولیس وین میں سہپل آفریدی کے ساتھ کوئی پولیس اہلکار نظر نہیں آ رہا۔
سہیل آفریدی کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ اگر پولیس نے گرفتار نہیں کیا تو سہیل آفریدی یہاں کیسے آئے، ان کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور ہمارے لوگ جب ان کے پبچھے گئے تو ان پر دباؤ بنا اور ہمارے کارکنان کو دیکھ کر وزیر اعلیٰ کو گاڑی سے اتارا گیا۔
ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پنجاب پولیس کی وین میں سہیل آفریدی ان کے ایک کارکن اور دو گن میں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں ہے۔ وین میں موجود کارکن ویڈیو بناتے ہوئے چلا رہے ہیں کہ انہیں اغوا کر لیا گیا ہے۔ جبکہ سہیل آفریدی مسکرا رہے ہیں۔
View this post on Instagram
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا خود جا کر پولیس وین میں بیٹھے، عظمیٰ بخاری
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک اور ڈرامہ بازی ملاحظہ کریں، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی خود جا کر پولیس وین میں بیٹھے جبکہ پولیس والے انہیں اترنے کا کہتے رہے۔ جبکہ اپنے گارڈز کو ڈرامہ بلاک کرنے پر جھاڑ کر پرے کر دیا۔
View this post on Instagram


