ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کو ثالثوں کے ذریعے 7 شرائط بتا دیں اور واضح کیا ہے کہ یہ شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ شرائط کیا ہیں؟ فی الحال ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
تہران کا کہنا ہے کہ ایران ،عمان معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے،مفاہمت کا جلد خلیج فارس کے ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں اعلان کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مکمل انحصار واشنگٹن کے اقدامات پر ہے،یہ مفاہمت صرف ایران اور عمان کے درمیان ہے اور دیگر ممالک آگاہی کیلئے شریک ہوں گے۔
ایران کے مطابق دونوں ممالک نے ہرمزسے آمد اور روانگی کے لیے نئے راستوں کی تفصیلات طے کی ہیں،خلیج فارس کی جانب آنے والا راستہ مکمل طور پر ایرانی علاقائی پانیوں میں ہوگا۔
ہرمز سے روانگی کے راستے کا ایک حصہ بھی ایرانی علاقائی پانیوں میں ہوگا،اس راستے سے آمدورفت ایرانی ضوابط کے تحت ہوگی،آبنائے ہرمز کے انتظام پر عمل درآمد کے بعد جنوبی راستہ بند کردیا جائے گا۔
واضح رہے دنیا بھر کی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ بندش کی وجہ سے خلیجی ممالک متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہیں اور بین الاقوامی سطح پر توانائی کا بحران سنگین ہو رہا ہے۔
ایرانی صدر نے بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں کیا کہا؟
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا ناکہ بندی اور جارحیت بند کر دے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔
بھارٹی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا جنگ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے ناکہ بندی کا قدم اٹھایا۔ سمندری راستہ کوئی ایسا راستہ نہیں ہے جس پر ہماری زندگی کا مکمل انحصار ہو، امریکا اپنے اس طریقے میں بھی کامیاب نہیں ہو گا۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ پیر کے روز مسقط میں ایران، عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو گا تاکہ ان کی موجودگی میں آبنائے ہرمز میں مشترکہ راستے سے متعلق عمان اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو مطلع کیا جا سکے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس اجلاس میں ان ممالک کے وزرائے خارجہ موجود ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔




