تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایرانیوں کو غریب کرنے اور ایرانی معیشت کو تباہ کرنے کی خواہش پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس امریکا خود بے بس اور بے نقاب کھڑا ہے جبکہ عالمی برادری کا امریکی مالیاتی نظام سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خزانہ ایرانی معیشت کو کمزور کرنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں لیکن دنیا کا امریکی مالیاتی نظام پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکی قرضوں کی فنڈنگ کی لاگت سے متعلق بحران صرف آغاز ہے۔
The U.S. Treasury Secretary has been gleefully boasting about wanting to impoverish Iranians and collapse our economy. Instead, he stands powerless and exposed as the world loses belief in the U.S. financial system.
Meltdown over cost of funding U.S. debt is only the beginning. pic.twitter.com/aUYLQHtPNz
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) September 11, 2026
امریکی وزیر خزانہ کا انتباہ
واضح رہے کہ تین روز قبل امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جو ہوا بازی کے شعبے اور دیگر کمپنیوں سے متعلق تھیں۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں جنگ کے ساتویں ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے وسیع مہم کا حصہ ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں میں 36 تجارتی اور نجی ایئر لائنز اور غیر ملکی کمپنیاں شامل ہیں جو کارگو خدمات فراہم کرتی ہیں، جن میں ماہان ایئر بھی شامل ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدامات ان تمام افراد کے لیے انتباہ کے طور پر کام کرنا چاہیے جو باقی ایرانی ایئر لائنز کے ساتھ لین دین کر رہے ہیں، جن سب کو اس دن پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ ایسا کرنے والے عالمی مالیاتی نظام سے کٹ جانے کے خطرے میں ہیں۔
امریکی وزیر جنگ کا ایرانی فوجی صلاحیتوں کو تاریخی نقصان پہنچانے کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں کو تاریخی نقصان پہنچا ہے اور جنگ کے حتمی نتیجے کا اختیار امریکا کے پاس ہے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر امریکا کو انتہائی مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیتوں کو پہنچنے والا نقصان غیر معمولی اور تاریخی نوعیت کا ہے۔
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کی تاریخی تباہی ہوئی ہے، تاہم جنگ کے مستقبل اور اس کے نتیجے کا فیصلہ ابھی امریکا کے ہاتھ میں ہے۔ واشنگٹن کے پاس ایران کے حوالے سے متعدد آپشنز موجود ہیں اور امریکا اپنی مرضی کے مطابق جنگ کے اگلے مرحلے کا تعین کرسکتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی کارروائیوں میں ایران کی بیلسٹک میزائل، ڈرون اور بحری دفاعی صنعتی صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ہے۔ امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون بنانے والے بنیادی ڈھانچے کا بڑا حصہ متاثر ہوا جبکہ فضائی دفاعی نظام اور بحری صلاحیتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
پس منظر
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں معاشی پابندیاں اور فوجی دباؤ اہم عوامل رہے ہیں، واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کی آمدنی اور فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنا رہا ہے جبکہ تہران امریکی اقدامات کو معاشی اور فوجی جنگ قرار دیتا ہے۔
حالیہ فوجی تنازع کے دوران امریکا کی جانب سے ایرانی فوجی تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ ایران بھی امریکی مفادات اور خطے میں امریکی فوجی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیوں کا مؤقف اختیار کرتا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی وزیر خزانہ پر تازہ طنز اور امریکی وزیر جنگ کا ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تاریخی نقصان پہنچانے کا دعویٰ اسی جاری امریکا ایران کشیدگی اور باہمی دباؤ کا حصہ ہے۔




