افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو متاثر کرنے والے مسائل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے روس میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات میں سیاسی مفاہمت کے بجائے صرف فوجی زبان استعمال کررہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان کے خلاف جارحیت کا مرتکب ہوا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ٹرانزٹ روٹس، افغان مہاجرین اور طلبہ کو دباؤ کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا ہے، جبکہ سرحد کے قریب ہزاروں مسلح افراد جمع کیے گئے ہیں تاکہ خطے کے استحکام کو چیلنج کیا جاسکے۔
امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان نہیں چاہتا کہ پاکستان کے ساتھ مسائل باہمی الزامات اور پروپیگنڈے کا میدان بنیں اور نہ ہی کابل اس تنازع کو طول دینے کے لیے نئے ذرائع تلاش کررہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کو اپنا “جائز اور ناقابل تردید حق” سمجھتا ہے۔
واضح رہے کہ افغان وزیر خارجہ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
Afghan Taliban Former Minister Mullah Muttaqi Accuses Pakistan’s “Military Regime” of Supporting Armed Opposition Groups
Mullah Amir Khan Muttaqi, the Taliban’s Foreign Minister, accused Pakistan’s “military regime” of effectively supporting armed opposition groups fighting against the Taliban. https://t.co/qSEe0RREZj
— Afghan Times (@AfghanTimes7) October 5, 2026
پاکستان کا افغانستان میں فضائی حملوں کا مؤقف
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رہی ہے اور پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ملوث عناصر کو پناہ فراہم کررہی ہے۔ افغان طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی ایک اندرونی معاملہ ہے۔
پاکستان نے حالیہ ہفتوں کے دوران افغانستان میں ان ٹھکانوں کے خلاف کئی مرتبہ فضائی کارروائیاں کی ہیں جنہیں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور دہشت گرد انفرااسٹرکچر کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔
یکم اکتوبر کو پاکستان نے افغانستان میں دو مقامات پر “مربوط اور منصوبہ بندی کے تحت” فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 22 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی، تاہم افغان حکام نے دعویٰ کیا کہ کنڑ اور ہلمند صوبوں میں ہونے والے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت شہری ہلاک ہوئے۔
اس سے قبل 24 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے تھے۔ جو افغان سرزمین سے کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے اور ان اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستان کے خلاف حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔ افغان حکام نے ان حملوں میں 4 شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔
21 ستمبر کو بھی پاکستان نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور پکتیکا میں دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کی تھیں۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ حملوں میں 28 جنگجو مارے گئے، جبکہ افغان حکام نے شہری ہلاکتوں کی اطلاعات دی تھیں۔ یہ کارروائیاں خیبرپختونخوا میں ہونے والے حملوں کے بعد کی گئی تھیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کارروائیاں قابل اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور ان میں ان دہشت گرد گروہوں کے کیمپوں، ٹھکانوں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہیں۔
اسلام آباد کی جانب سے کابل سے بارہا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرے، خصوصاً کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے افغانستان میں کیے جانے والے فضائی حملوں کو افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار ڈرون حملوں، گولہ باری اور عسکریت پسندوں کی دراندازی کے الزامات کا بھی تبادلہ ہوتا رہا ہے۔
ٹی ٹی پی کا معاملہ 2021 میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور تنظیم کو افغانستان میں پناہ گاہیں حاصل ہیں، جبکہ افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔



