وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ نرمی بہت ہو چکی ، سیاسی و آئینی انتظام کر لیا، یہ ملک کا آخری لانگ مارچ ہو گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا ، پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر مذاکرات کو نتیجہ خیز نہیں بننے دیا، اپوزیشن مذاکرات کے حوالے سے حقائق چھپا رہی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہفتہ (3 اکتوبر) کو مذاکرات کا طویل دور ہوا تھا تاہم بعض معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے، فریقین نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیا تھا۔ جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کردیا۔
’ہمیں یقین تھا میثاق جمہوریت ٹو ہونے جا رہا ہے‘
طلال چوہدری نے کہا کہ ہمیں یقین تھا کہ میثاق جمہوریت ٹو ہونے جا رہا ہے ، مذاکرات کے آخری وقت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے شرائط سامنے رکھی گئیں، سہیل آفریدی اپنی وزارت کو دوام بخشنا چاہتے ہیں، آج لانگ مارچ کی وجہ سے پشاور میں امتحانات ملتوی ہوئے ہیں۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سہیل آفریدی اور پارٹی کی مذاکراتی کمیٹی کا ایک ہی موقف تھا، اُن کے مطابق حکومت عمران خان کا علاج ذاتی معالج سے نہ کرانے اور خیبرپختونخوا میں آپریشنز کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالنے پربضد تھی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رویے میں انتہائی رعونت تھی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کا مؤقف پیش کیا جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کے نیشنل ایکشن پلان میں تعاون اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے متعلق بھی حکومت نے اپنا مؤقف واضح کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف بیانیہ کسی ایک کا نہیں پورے پاکستان کا ہے، نیشنل ایکشن پلان ٹو بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بنا، ہمیں ملکی سلامتی عزیز ہے، ہم پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
’اپوزیشن ساری سیاسی اسپیس لے لے لیکن دہشتگردوں کو نہ پالے‘
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی اور دہشتگردی کا خاتمہ حکومت کے لیے سب سے اہم ہے، اپوزیشن ساری سیاسی اسپیس لے لے لیکن دہشت گردوں کو نہ پالے۔
دوبارہ مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے مشروط بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے، دہشت گردی کے معاملات پراتفاق رائے کے بغیر اب کوئی بات چیت نہیں ہو گی، ملکی سلامتی اور استحکام اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز، پولیس اور لوگ قربانیاں دے رہے ہیں جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی والے شہدا کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد ڈرون کے استعمال پر سوال اٹھانا درست نہیں، افغانستان سے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے ڈرون بھیجے جانے کے واقعات ہوئے ہیں، اور اگر سکیورٹی فورسز پر حملے ہوں تو دہشت گردی کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردی کےخلاف بیانیے پر متفق کرنا ہی ہماری جیت ہے، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی پرسمجھوتا نہیں کریں گے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے مشکل فیصلوں کی سیاسی قیمت ادا کی گئی۔ اگر دہشت گردی ختم ہوتی ہے اور سیاسی فائدہ اپوزیشن کو ملتا ہے تو اس پر کوئی جھجک نہیں، تاہم دہشت گردی کے خاتمے پر ہر صورت مکمل اتفاق ہونا چاہیے۔
’جہاں کوئی کارنر میٹنگ نہ کرسکے، آپ جلوس نکالتے ہیں، کوئی تو گٹھ جوڑ ہے؟‘
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ “جن علاقوں میں کسی کی شادی محفوظ نہیں، کسی کی وفات یا غم کا موقع محفوظ نہیں، جہاں کوئی جماعت جلسہ جلوس تو دور کی بات، کارنر میٹنگ بھی کرے تو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ اس کے رہنما یا کارکنوں پر حملہ ہو جائے گا، وہاں آپ کی جماعت کے اتنے بڑے بڑے جلوس کیسے نکلتے ہیں اور ان پر کوئی پتھر تک نہیں مارتا؟ کوئی تو رشتہ، مشترکہ مفاد ہے یا گٹھ جوڑ ہے نا؟”
انہوں نے “مجھے یہ بتائیے کہ 2015 کے بعد گزشتہ 11 برس میں کیا خیبر پختونخوا یا پاکستان کے کسی دوسرے حصے میں آپ کے کسی صوبائی یا قومی رہنما پر ٹی ٹی پی یا کسی دوسری تنظیم نے حملہ کیا؟ اسی 11 سال کے دوران پاکستان کی کون سی سیاسی جماعت ہے جس کے کارکن شہید نہ ہوئے ہوں، زخمی نہ ہوئے ہوں یا جس پر حملے نہ ہوئے ہوں؟ جنازوں سے لے کر شادی گھروں تک، صحافی، سرکاری ملازمین اور سول سوسائٹی کا کوئی فرد محفوظ نہیں۔ اگر کوئی محفوظ ہے تو صرف پی ٹی آئی ہے۔”
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کیا آپ کا کوئی مسلح ونگ ہے؟ کیوں وہ صرف آپ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں؟ آپ کو وہ پتھر تک نہیں مارتے جبکہ دوسروں پر خودکش بمبار بن کر حملے کرتے ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ”اس کے بعد آپ کہتے ہیں کہ ہم ڈرون استعمال نہیں ہونے دیں گے، یعنی اگر سکیورٹی فورسز پر ہیلی کاپٹر سے حملہ ہو، افغانستان سے ڈرون آئیں، دہشت گرد ڈرون اڑائیں اور ہماری سکیورٹی فورسز کی چھاؤنیوں اور تھانوں کو نشانہ بنائیں، تو کیا انہیں جواب دینے کے لیے ڈرون استعمال نہیں کرنے چاہئیں؟“
انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں جنگی کارروائیوں، اندرونی سکیورٹی اور حتیٰ کہ ٹریفک کنٹرول میں بھی ڈرون ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے اور آپ ہماری سکیورٹی فورسز کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ڈرون استعمال نہ کریں؟
یعنی آپ جان بوجھ کر یہ چاہتے ہیں کہ ہماری سکیورٹی فورسز کمزور نظر آئیں اور وہ ایسے ہتھیار استعمال نہ کریں جو مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔”



