وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ نرمی بہت ہو چکی ، سیاسی و آئینی انتظام کر لیا، یہ ملک کا آخری لانگ مارچ ہو گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق رائے ہوا تھا ، پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر مذاکرات کو نتیجہ خیز نہیں بننے دیا، اپوزیشن مذاکرات کے حوالے سے حقائق چھپا رہی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہفتے کو مذاکرات کا طویل دور ہوا تھا تاہم بعض معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات میں تعطل آ گیا ، مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار فریقین نے ایک دوسرے قرار دیا تھا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے پر بات ہوئی لیکن دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق معاملات کو نظرانداز کیا گیا۔
‘ہمیں یقین تھا میثاق جمہوریت ٹو ہونے جا رہا ہے’
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین تھا کہ میثاق جمہوریت ٹو ہونے جا رہا ہے ، مذاکرات کے آخری وقت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے شرائط سامنے رکھی گئیں۔ سہیل آفریدی اپنی وزارت کو دوام بخشنا چاہتے ہیں۔ آج پشاور میں لانگ مارچ کی وجہ سے امتحانات ملتوی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشتگردی کے معاملے پر حکومت کا مؤقف پیش کیا، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کے نیشنل ایکشن پلان میں تعاون اور دہشتگردی کے خلاف اقدامات سے متعلق بھی حکومت نے اپنا مؤقف واضح کیا۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کیخلاف بیانیہ کسی ایک کا نہیں پورے پاکستان کا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان ٹو بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بنا، ہمیں ملکی سلامتی عزیز ہے۔ ہم پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
‘اپوزیشن ساری سیاسی اسپی لے لیں لیکن دہشتگردوں کو نہ پالیں’
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی اور دہشتگردی کا خاتمہ حکومت کے لیے سب سے اہم ہے، اپوزیشن ساری سیاسی اسپی لے لیں لیکن دہشتگردوں کو نہ پالیں۔
دوبارہ مذاکرات کے حوالے سے طلال چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن سے مشروط بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے، ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے، دہشتگردی کے معاملات پراتفاق رائے کے بغیر اب کوئی بات چیت نہیں ہو گی، ملکی سلامتی اور استحکام اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز، پولیس اور لوگ قربانیاں دے رہے ہیں، پی ٹی آئی والے شہداء کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو دہشتگردی کیخلاف بیانیے پر متفق کرنا ہی ہماری جیت ہے، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم دہشتگردی پرسمجھوتا نہیں کریں گے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے مشکل فیصلوں کی سیاسی قیمت ادا کی گئی۔ اگر دہشتگردی ختم ہوتی ہے اور سیاسی فائدہ اپوزیشن کو ملتا ہے تو اس پر کوئی جھجک نہیں، تاہم دہشتگردی کے خاتمے پر ہر صورت مکمل اتفاق ہونا چاہیے۔



