وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اچانک گورنر ہاؤس پشاور پہنچ گئے جہاں انہوں نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اورحکومت و اپوزیشن کے درمیان پی ٹی آئی کے 4 اکتوبرکواسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ کو روکنے کیلئے مذاکرات بھی ڈیڈلاک کا شکار ہوچکے ہیں۔
حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو قرار دیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوران ایک ’’فائدہ مند معاہدہ‘‘ طے پاچکا تھا، تاہم حتمی مسودے کی منظوری کے مرحلے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس میں تبدیلیاں طلب کیں، جس کے باعث مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ متعدد ادوار کی بات چیت کے بعد معاہدے کا مسودہ حتمی شکل اختیار کرچکا تھا اور وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری بھی اس مسودے کا جائزہ لے چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور صدر سے مشاورت کے بعد جب وہ پارلیمنٹ ہاؤس واپس آئے تو انہیں بتایا گیا کہ سہیل آفریدی نے مسودے پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے تبدیلیاں طلب کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مسودے میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی اور اس کے بعد اسے حتمی شکل دی گئی۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اپوزیشن کو یہ بھی کہا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو تحفظات ہیں تو انہیں مذاکراتی اجلاس میں شامل کیا جائے یا وہ اپنا نمائندہ بھیج دیں۔
سہیل آفریدی لانگ مارچ کی قیادت کیلئے لکی مروت پہنچ گئے
محسن نقوی کے پشاور پہنچنے سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کی قیادت کیلئے لکی مروت پہنچ چکے تھے۔
پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی لکی مروت پہنچ گئے،
عوام کا شاندار استقبال
#سر_بکف_میدان_میں https://t.co/Tc4TDy2UeP
— PTI (@PTIofficial) October 4, 2026
وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت کے گنڈی چوک پہنچے، جہاں میداد خیل کے قریب ان کیلئے خصوصی ہیلی پیڈ تیار کیا گیا تھا۔
بعد ازاں سہیل آفریدی مارچ کیلئے قائم کیے گئے کنٹینر پر پہنچے جہاں پارٹی رہنما اور کارکن موجود تھے، پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کیلئے کیا جارہا ہے۔ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
پی ٹی آئی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اسلام آباد مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، دوسری جانب وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ مظاہرین کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
گورنر کا سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال پر اعتراض
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لکی مروت پہنچنے سے قبل گورنر فیصل کریم کنڈی نے ان کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال پر تنقید کی۔
گورنر نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے سیاسی سرگرمی کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود توہین عدالت اور عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا سرکاری ہیلی کاپٹر پر لانگ مارچ کی قیادت کے لیے گنڈی چوک، لکی مروت پہنچنا توہینِ عدالت اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے
جب وزیرِاعلیٰ خود عدالت کے احکامات کی پاسداری نہیں کریں گے، سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال کریں گے، تو پھر ان کے کارکنوں سے قانون کی پاسداری کی کیا توقع کی جا سکتی ہے— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 4, 2026
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جب وزیراعلیٰ خود عدالتی احکامات کی پابندی نہیں کریں گے اور سیاسی سرگرمیوں کیلئے ریاستی وسائل استعمال کریں گے تو ان کے کارکنوں سے قانون کی پاسداری کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔
محسن نقوی نے اس سے قبل کہا تھا کہ حکومت کی بنیادی توجہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تھی۔
ان کے مطابق حکومت چاہتی تھی کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کو آزادانہ سرگرمیوں اور محفوظ ٹھکانوں سے روکے، ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی مذمت کرے، انسداد دہشت گردی کیلئے فنڈز اور پولیس کی استعداد بڑھائے اور وفاقی حکومت و سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کرے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے کئی گھنٹوں بعد ڈیڈلاک پر ختم ہونے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایسے میں محسن نقوی کی گورنر ہاؤس پشاور آمد اور فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کو اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔



