کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کیلئے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی چوتھی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں شروع ہوگئی ۔
کمیشن نے میررضا کےدوست محمد ہیثم سے سوال کیا کہ آپ کیا کرتےہیں؟ محمد ہیثم نے اپنے جواب میں کہا کہ میں سافٹ وئیرہاؤس میں کام کرتا ہوں جومیری سورس آف انکم ہے،میر رضا میرے اسکول کا 2014 سے دوست ہے،میں اس سے پیڈل اور دیگرگیمنگ کےدوران میں ملا۔
محمد ہیثم نے اپنے جواب میں مزید بتایا کہ 27جولائی اتوارصبح 3بجے ملا تھا،واصف ،احمد، میررضا، علی عباس اورمیں نےایک ساتھ ملاقات کی،آخری دفعہ رازق کی کارمیں میری ویڈیوکال پرمیررضا سےبات ہوئی،وہ اچھے موڈ میں تھا اوررازق سے ہنسی مذاق کررہا تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کوکیسے پتا چلا کہ میررضا لاپتہ ہوا؟ جواب میں انہوں نے بتایا کہ 28جولائی کومیرکی منگیترنے مجھے کال کرکے بتایا،4بجےصبح کا ٹائم تھا منگیترنے پریشانی میں کال کی،میں نےاس سے کہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں میری میر رضا سے بات ہوئی ہے وہ یہیں کہیں ہوگا پھرمیں نے رازق کوکال کی اس نےبتایا کہ رضا نے اسے اس کے آفس میں ڈراپ کیا ہے۔
محمد ہیثم نے مزید کہا کہ پھرمیں نےاس کی والدہ کوکال کی اوررضا کا پوچھا کہ آپ مجھے چیک کرکے بتا سکتی ہیں میررضا اپنےکمرے میں ہےکہ نہہں؟پھروالدہ نے بتایا کہ وہ کمرے میں بھی نہیں ہےاورگاڑی بھی نہیں ہے،میں نےرازق کوکال کی رضا نہیں مل رہا تم گھرپہنچو۔
میں اور رازق صبح ساڑھے چاربجے چائے ہوٹل اورفاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں میر رضا کو ڈھونڈنےلگے،میں پھرمیررضا کےگھرپہنچ گیا میرے پاس کرائے کی گاڑی سفید آلٹو تھی،جب میں میرکےگھرپہنچا توکوئی دوست گھرپرموجود نہیں تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کس نے میررضا کے کمرے کی تلاش لی؟جس پر دوست محمد ہیثم نے بتایا کہ میں گھرکےباہرموجود تھا رازق اورعبداللہ نےگھر میں کمرے کی تلاشی لی۔
کمیشن سربراہ نے سوال کیا کہ کیا آپ سچ بول رہےہیں یا دیگردوست جھوٹ بول رہےہیں؟ آپ یہ کہہ سکتےہیں کہ باقی دوستوں نےجھوٹ بولا کہ آپ بھی کمرہ کی تلاشی میں موجود تھے،28جولائی کوآپ نے میررضا کےکال ڈیٹا کےحوالےسے فیملی کوبتایا تھا؟
محمد ہیثم نے کہا کہ میں نے میررضا کی فیملی کو اس کی لاسٹ لوکیشن ملینئم کےمدمقابل بتائی تھی،کمیشن نے سوال کیا کہ آپکوکیسے پتا چلا،آپ نےسی ڈی آرکیسےحاصل کیا؟ محمد ہیثم نے جواب دیا کہ میرے دوست حمزہ نےمجھے ڈیٹا دیا۔حمزہ بھی میررضا کا دوست تھا اس نے بتایا کہ سی ڈی آر کسی اوردوست نےاس سےشئیر کی تھی۔
سربراہ جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ میررضا کی منگیترنےمجھےانفارم کیا کہ میرکےاکاؤنٹس اورواٹس ایپ غیرفعال ہوگئے،میررضا کے دوست محمد ہیثم اپنے بیان میں یہ سب نہیں بتارہے،انہوں نے محمد ہیثم کو ہدایت کی کہ آپ حقائق کومکمل بیان کریں ، تبدیل نہ کریں۔
جوڈیشل کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ آپ نے فیملی کوکہا کہ میررضا کے زیراستعمال گاڑی رینٹ کی تھی وہ واپس کردیں؟ ہیثم نے جواب دیا کہ میرے کزن نےمیررضا کوشورم سے گاڑی کرایے پرلیکر دی۔
سربراہ جوڈیشل کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نےفیملی سے یہ کہا کہ اگرگاڑی واپس نہیں کی توآپ کےلیےمسئلہ ہوجائیگا؟ ہیثم نے جواب دیا کہ جی ،میں نے میررضا کی فیملی کوکہا کہ اگرگاڑی واپس نہیں کی تومسئلہ ہوجائےگا۔میں نے میررضا کی فیملی کویہ اس لیے کہا کہ گاڑی میری ضمانت پر دی گئی تھی۔
دوران سماعت ہیثم سے سوال کیا گیا کہ آپ یکم اگست سے کسی کے ساتھ رابطے میں نہیں تھے؟جس پر اس نے کہا کہ مجھےسی آئی اےاورفیروزآباد تھانے نےبیان کیلئےبلایا تھا،مجھے کہاگیاتھاکہ کسی قسم کی پوسٹ نہیں لگانی اورکسی مظاہرے میں شرکت نہیں کرنی۔
سربراہ جوڈیشل کمیشن نے سوال کیا کہ آپکےذہن میں ایسا کیا تھا ،آپ خود کوذمہ دارکیوں سمجھ رہےتھے؟آپ نے اپنے سوشل اکاؤنٹس تبدیل کرلیے،کیا آپ کامیرکےکاروبارسےکچھ لینا دینا تھا ؟
محمد ہیثم نے جوڈیشل کمیشن کوجواب دیا کہ جی جب اس نے بزنس اسٹارٹ کیا تھا تومیں شریک ہواتھا ،میں نےایک سال پہلے میررضا سے 15ہزارروپے لیے تھے،بزنس میں میرے پیسے کا کوئی عمل دخل نہیں تھا،میررضا کرپٹوکرنسی میں بھی کام کررہا تھا،میرے علم میں نہیں کہ میررضاکسی بزنس میں مالی نقصان کا سامنا کررہا تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کےخیال میں احمد اورعبداللہ سےمیررضا کےکاروبارمیں کوئی مسائل تھے؟ جس پر اس نے بتایا کہ احمد اورعبداللہ کے میررضا کےکاروبارمیں مسائل کے بارے میں مجھے علم نہیں۔
سربراہ جوڈیشل کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ جب تھانےگئےتوپولیس والےنےآپکا بیان لکھا تھا ؟ہیثم نے جواب دیا کہ میں جب تھانے گیا توپولیس والے میرا بیان کمپیوٹرپرٹائپ کررہےتھے
سربراہ جوڈیشل کمیشن نے پھر سوال کیا کہ تھانے میں آپ نے دوبارہ بیان کب دیا؟ہیثم نے بتایا کہ مجھے16اگست کونئی تفتیشی ٹیم نےکال کرکےبلایا تھا۔
سربراہ جوڈیشل کمیشن نے محمد ہیثم سے پوچھا کہ تفتیشی ٹیم نےکیا سوالات کیے؟محمد ہیثم نے بتایا کہ تفتیشی ٹیم خودکشی اورقتل کےحوالےسےسوالات کررہی تھی۔
سربراہ جوڈیشل کمیشن نے محمد ہیثم سےمکالمہ کیا کہ آپ پولیس کودئیےگئے اپنے بیان سے پھررہےہیں ،مجھ سےجھوٹ بولنےکی کوشش نہ کریں،آپ نےبزنس سے متعلق کچھ تفصیل اکٹھی کی تھی؟ایسا بیان آپ نےدیا تھا؟
محمد ہیثم نے جوڈیشل کمیشن کوجواب دیا کہ احمد نےکاروباری پیسوں کےحوالے سے مجھے بتایا،میں نےپولیس کوجو بیان دیا اس کی کاپی ابھی تک نہیں ملی۔
کمیشن نے پوچھا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم نے بھی ایسےہی کچھ سوالات کیےتھےجوبیان آپ یہاں دےرہےہیں؟محمد ہیثم نے جوڈیشل کمیشن کوجواب دیا کہ نئی تفتیشی ٹیم نے16اگست کومیراویڈیو بیان ریکارڈ کیا تھا۔
نوٹ : جوڈیشل کمیشن کی سماعت جاری ہے ، مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں




