پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ دعائیں پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں لیکن حقیقت بیان کرنے سے خود کو روک نہیں سکتا۔
ہم نیوز کے پروگرام ’’فیصلہ آپ کا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف کی نہ کوئی تیاری ہے اور نہ حکمت عملی، جبکہ پارٹی روزانہ کی بنیاد پر اپنی حکمت عملی تبدیل کررہی ہے۔
شیرافضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن 12 اضلاع سے گزر کر پشاور پہنچے ہیں اور ان علاقوں کی مجموعی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے۔
اگر ان علاقوں سے ایک لاکھ افراد بھی نکلتے تو یہ ایک متاثرکن تعداد ہوتی، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔
کرک میں 200 افراد بھی موجود نہیں تھے
شیرافضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی تیاریوں اور زمینی صورتحال میں واضح فرق دکھائی دے رہا ہے ان کے مطابق جب قافلہ کرک پہنچا تو وہاں 200 افراد بھی موجود نہیں تھے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو تحریک انصاف کا قافلہ صوابی تک کیسے پہنچے گا؟ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو اپنے احتجاج اور لانگ مارچ کے حوالے سے واضح حکمت عملی اور مؤثر تیاری کی ضرورت تھی۔
روزانہ حکمت عملی تبدیل ہورہی ہے
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ تحریک انصاف روزانہ کی بنیاد پر اپنی حکمت عملی تبدیل کررہی ہے، جس کے باعث کارکنوں اور قافلوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق لانگ مارچ جیسے بڑے سیاسی اقدام کیلئے پہلے سے جامع منصوبہ بندی اور کارکنوں کی منظم شرکت ضروری ہوتی ہے۔
شیرافضل مروت نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور ان کی دعائیں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، تاہم وہ حقیقت بیان کرنے سے باز نہیں آسکتے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی موجودہ صورتحال پر بات کرنا ضروری ہے تاکہ زمینی حقائق کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
مذاکرات کامیاب ہوتے تو صوبائی حکومت کو فائدہ ہوتا
مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوجاتے تو اس کا زیادہ فائدہ خیبر پختونخوا حکومت کو ہوتا۔ ان کے مطابق مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ محمود اچکزئی کے بیان کی وجہ سے مذاکرات خراب ہوئے۔
شیرافضل مروت نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کیلئے راضی ہونا ہی نہیں تھا، جبکہ موجودہ صورتحال میں پارٹی کے بعض رہنما بانی پی ٹی آئی کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔
کے پی کی صورتحال بلوچستان سے بہتر ہے
شیرافضل مروت نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صوبوں کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو خیبر پختونخوا کی صورتحال بلوچستان کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں تحریک انصاف کو جذباتی فیصلوں کے بجائے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق کارکنوں کی تعداد، عوامی حمایت اور احتجاج کی تیاری کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا ہوگا۔



