کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کیلئے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی تیسری سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی۔
میر رضا کے دوست اور بزنس پارٹنر کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ میر رضا کے ساتھ بچپن میں ایک ہی اسکول میں پڑھا،ہم دونوں نے 2020 میں بزنس کا آغاز کیا،پورا بزنس رجسٹرڈ پارٹنرشپ کی بنیاد پر قائم ہے،میرا اپنا ایک اور الگ بزنس ہے ،بہادر آباد کی برانچ میر رضا سنبھالتے تھے۔ناظم آباد برانچ کا انتظام میں دیکھتا تھا۔
جوڈیشل کمیشن نے سوال کیا کہ فنانس کی دیکھ بھال کیسے کی جاتی تھی؟جس پرانہوں نے کہا کہ کاروبار کی پارٹنرشپ 50 فیصد کی بنیاد پر طے شدہ تھی،حساب کتاب اور انتظام سنبھالنے کے لیے ملازم رکھا تھا۔
28جولائی کو صبح 8 بجے اپنی گاڑی میں میر رضا کے گھر گیا تھا،میرے پاس صرف ایک گاڑی ہے ، میر رضا کے گھر میرے علاوہ میرا بڑا بھائی بھی ساتھ گیا تھا،جب میں وہاں پہنچا تو وہاں پہلے 3،4لوگ موجود تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گھر والوں سے اجازت لے کر آپس میں مشورے کے بعد ہم نے گھر کی تلاشی لی،بچپن کا دوست ہونے کی وجہ سے میرا اکثر میر رضا کے کمرے اور گھر میں جانا رہتا تھا،میں، میرا بھائی، رازق، میر رضا کی والدہ اور بہن مل کر کمرے میں گئے تھے۔
میر رضا مسنگ تھا اس لیے کوئی سُراغ تلاش کرنے کی غرض سے کمرے کو دیکھا گیا ،کمرے میں سگریٹ کا ڈبہ موجود تھا جہاں میر رضا اکثر چرس رکھتا تھا۔
چرس رکھنے کے بیان پر کمیشن نے سوال کیا کہ آپ نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے چرس کا ذکر کرنا کیوں ضروری سمجھا؟ جس پر انکےدوست نے کہا کہ کمیشن میں اپنی پوزیشن کلیئر کرنے آیا ہوں اس لیے سچ بتانا مناسب سمجھا۔
کمیشن نے پھر سوال کیا کہ کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ کمرے کی تلاشی آپ کی بجائے خود فیملی لیتی؟جس پر میر رضا کے دوست نے کہا کہ سب پریشان تھے تو میں نے مدد کی نیت سے خود کمرے کی تلاشی لی۔
کمیشن نے نکتہ اٹھایا کہ بزنس 2020 میں شروع کیا لیکن ایس آر بی کو ٹیکس 2024 میں کیوں دیا؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ سندھ ریونیو بورڈ کا نوٹس موصول ہونے پر ہم نے ٹیکس جمع کروایا تھا۔
کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے خاتون کو ادائیگی وصولی سے متعلق ای میل کرنے کا کہا تھا؟جس پر میر رضا کے دوست نے کہا کہ جی! میں نے رقم سے متعلق ای میل بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔
جوڈیشل کمیشن نے سوال کیا کہ آپ نے دوست کی گمشدگی کے دوران ایسا کیوں کیا؟جس پر انہوں نے بتایا کہ ادائیگی ہر منگل کو ہوتی ہے، میر رضا پہلے بھی بتائے بغیر اسلام آباد جا چکا تھا۔
کمیشن نے کہا کہ دوست لاپتہ تھا اور آپ فیملی سے پیسوں کا تقاضا کر رہے تھے، کیا برا نہیں لگا؟ہمیں تمہاری باتوں پر بالکل اعتماد نہیں، لیکن جو کہہ رہے ہو ریکارڈ کا حصہ بنا رہے ہیں،کمیشن جو سوالات پوچھ رہا ہے آپ صرف ان کا ہی سیدھا جواب دیں۔
دوست نے کمیشن کے روبرو بیان دیا کہ میری میر رضا سے آخری بار واٹس ایپ پر بات ہوئی تھی، میں نے صبح 4 بجے میسج بھیجا تھا۔
دوست نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ چھٹی کے وقت سیکیورٹی گارڈز کا اسلحہ جمع کروانا میرے ملازم کی ڈیوٹی میں شامل ہے،مجھےپتہ چلا تومیں ساڑھے 9بجےدکان پہنچا اور سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ، میررضا پستول لیکرجارہاتھا میں نےفیروزآباد تھانےکا اطلاع دی۔
کمیشن نے سوال کیا کہ آپ نےمناسب نہیں سمجھا کہ فیملی کوپہلےبتایا جائے،دوست نے بتایا کہ گزشتہ سال میر رضانےبتایا تھا کہ والدکوبزنس نقصان ہوا تھا،میررضاجب اسلام آباد گیا تھا اس نےبتایاتھا کہ والد نےگھرگروی رکھ کرپیسےلیےہیں۔میررضا پریشان تھا،کسی شخص نےاسےتھانےسےبھی کال کروائی تھی۔
کمیشن کے سربراہ نے سوال کیا کہ آپ نےہمیں کیوں آگاہ نہیں کیا ؟کیا ریسٹونٹ میں ایک اورپارٹنرشامل ہے؟ہمارے پاس معاہدہ ہے جس میں تیسرے شراکت دار کاذکرہے۔تیسرے شراکت دا رکی بات پہلےکیوں نہیں بتائی؟معاہدے پرآپکےدستخط ہیں، کتنےپیسےدئیے؟
مزید تفصیل شامل کی جارہی ہے
معاملہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ کراچی کی نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی 28 جولائی 2026 کی رات کام سے گھر واپس آنے کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش گلستان جوہر سے ملی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھنے کے بعد کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید طارق نے رپورٹ میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی، جن میں گولی کے داخل ہونے اور نکلنے کی سمت، زخموں کی تفصیلات، ایکسرے اور فائرنگ سے متعلق بعض فرانزک طریقہ کار کا نہ ہونا شامل تھا۔
اہل خانہ کے مطالبے پر عدالت نے مقتول کی قبر کشائی اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی اجازت دی۔ 8 اگست کو لاش کی قبر کشائی کی گئی، جس کے بعد 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا اور مختلف نمونے حاصل کیے۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی اور نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔پولیس کے مطابق میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میڈیکل رپورٹس، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستیاب مواد کی بنیاد پر جاری ہیں، جبکہ حتمی طبی نتائج کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے گا۔



