کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کی قبرکشائی کے بعد کیے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ تحقیقاتی ٹیم کو موصول ہوگئی۔
پولیس کے مطابق تحقیقات میں پیش رفت اور مفاد عامہ کے تقاضوں کے تحت رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔ترجمان سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم موصول ہونے والی رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت کی وجہ سینے میں لگنے والی گولی بنی جو پیچھے سے داخل ہو کر سامنے کی جانب سے نکل گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دل پھٹنے کی وجہ سینے پر آتشی اسلحے سے لگنے والی چوٹ بنی۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کے سر پر فریکچر اور جسم پر متعدد زخم بھی موجود تھے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں میر رضا کی شرٹ پر ہائیڈروکلورک ایسڈ کی موجودگی کی بھی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ خون کے نمونے میں بے ہوشی کی دوا بیوپیواکین کے آثار ملے ہیں تاہم لیبارٹری رپورٹ کے مطابق نشہ آور، سکون آور یا دیگر زہریلے مادوں کے شواہد نہیں ملے۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کی شرٹ کے نمونوں میں گولی چلنے سے پیدا ہونے والے ذرات کے آثار بھی پائے گئے۔ شرٹ پر سیسہ اور بیریم کے آثار ملے، جو آتشیں اسلحے سے فائرنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذرات میں شامل ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ میر رضا کا قبرکشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے ڈاکٹر سمیہ کی سربراہی میں مکمل کیا تھا۔ قبرکشائی کے دوران مختلف جسمانی اور فرانزک نمونے بھی حاصل کیے گئے تھے۔
میر رضا کیس کا پس منظر
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی 28 جولائی کو کام سے گھر واپس آنے کے بعد رات گئے دوبارہ گھر سے نکلے تھے تاہم واپس نہیں آئے۔ 29 جولائی کو انہیں گلستان جوہر میں پراسرار حالات میں مردہ پایا گیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھنے کے بعد کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے رپورٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جن میں گولی کے داخلے اور اخراج کی سمت، جسم کے زخموں کی تفصیل، ایکسرے اور فائرنگ کے ذرات سے متعلق ضروری فرانزک کارروائی نہ ہونے سمیت دیگر نکات شامل تھے۔
بعد ازاں میر رضا کے اہل خانہ کے مطالبے پر عدالت نے قبرکشائی کی اجازت دی اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ 8 اگست کو قبرکشائی کے بعد آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا اور مختلف نمونے حاصل کیے۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کے نتائج سامنے آنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کی گئی اور تحقیقات کے لیے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس کی تحقیقات طبی رپورٹس، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں جاری ہیں اور حتمی رپورٹ کے نتائج کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا۔


