سندھ ہائی کورٹ میں میر رضا قتل کیس کے سلسلے میں قائم جوڈیشل کمیشن کی دوسری سماعت ہوئی،جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمرسیال نے معاملے کی سماعت کی۔
میر رضا کے والدین بہن سمیت پیش
میر رضا کے والد میرحسین نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ میرا بیٹا کب لاپتہ ہوا؟یہ بات اسکی والدہ کو ہی پتہ ہے وہ بتا سکتی ہیں، حیسم نامی دوست کی صبح 4بجکر14 کال آئی کہ اس کےسوشل میڈیا اکاؤنٹ ڈیلیٹ ہیں اسے چیک کریں،میررضا کی منگیتر سلمیٰ نے حیسم کویہ کال کرکے بتایا تھا،میں نےان کا کمرہ چیک کیا تواس کی چیزیں کمرہ میں موجود تھیں،میں نےاس کی بہن کواٹھانے کے بعد اسے رضا کے حوالے سے بتایا۔
حسیم کےدو کزن ہیں،رازق میرے گھرمیں آگیا تھا،وہ کال سینٹرمیں کام کرتےہیں،میررضا کی شاپ پردومینجرہوتےہیں،شیری اورکاظم بھی گھرآگئے تھے،پھرہم نےملاپ نامی ایک گمشدگی ایپ کےادارے کوآگاہ کیا جنھوں نےمیررضا کی پوسٹ سوشل میڈیا پرپوسٹ کی۔
بعدازاں ون فائیو پرکال کی انھوں نےکہا کہ آپ فیروزآباد تھانے جا کربھی اطلاع دیں،صبح 6بجے تھانہ فیروزآباد نےانکی ایف آئی آرکاٹنےسے انکارکیا اورتصویراوردرخواست جمع کرانےکا کہا،ہم نےاطراف کےعلاقوں میں میررضا کوڈھونڈنا شروع کردیا۔
طارق روڈ پر کیمرے نظرآئےوہاں سے ہمیں ایک سفید گاڑی نظرآئی،گھرکےسامنےسےگاڑی گزرتی دیکھی گئی پھرپڑوسی شکیل کے گھر کے پاس پیدل چلتا نظرآیا،پھرآگے چیز ویلیو کے کیمرے کی ویڈیو دکھانےکا کہا اس میں دیکھا کہ آلٹوکا دروازہ کھولا ہےاورگاڑی وہاں سےچلی گئی۔
والد نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گاڑی خالد بن ولید روڈ پررانگ سائیڈ پرچلی گئی وہاں بینک کے لگے کیمروں میں ہم نے دیکھا گاڑی جھیل پارک کی طرف چلی گئی،گاڑی کا نمبرہمیں ویڈیومیں واضح نہیں ہورہا تھا۔اس دوران دوپہرہوگئی ہم 3:15منٹ پرفیروزآباد تھانےچلےگئے۔
میں نےایس ایچ اوعدیل افضال سےدرخواست کی کہ ایف آئی آرکاٹی جائے توانھوں نےکہاکہ بچہ ناراض ہوکرچلا گیا ہوگا۔ہم نے ریفرنس لگا کردوپہر4:30ایف آئی کٹوائی۔
ایس ایچ او نے مجھے یقین دلایا کہ رات 12بجےتک آپ کا بچہ زندہ لاکرآپکو دے دوں گا،پھرنعمان نامی اہلکارہمارےساتھ بھیجا تاکہ ہم اسے کیمروں کی نشاندہی کرائیں۔ایف آئی آرکے بعد ہمیں کہا گیا ایس آئی اوشبیرلغاری اس کیس پرآپ سےملاقات کریں گے۔
کمیشن سربراہ نے سوال کیا کہ کیا نعمان نے چیز ویلیوسےجوویڈیوحاصل کی اسکی تحریری دستاویزات لی۔والد نے کہا کہ ہمیں نہیں پتہ بس یہ پتہ ہے کہ انھی چیزویلیوکےعلاوہ کہیں سےکوئی ویڈیونہیں ملی۔پھرمغرب کےبعد شبیرلغاری ایس آئی اوہمارے گھرآئے۔
میررضا کی والدہ اوربہن نے اپنے بیان میں کیا کہا؟
میر رضا کی والدہ نے کمیشن کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ بزنس پارٹنراحمد گھرمیں آیا اورکہا فوڈ پانڈہ کی پیمنٹ آرہی ہےوہ پیمنٹ میرےاکاؤنٹ میں ٹرانسفرکروادیں۔اس پر بہن علشبہ کاکہنا تھا کہ اسےاحمد نےمیررضا کی ای میل سے پیمنٹ ٹرانسفرکرنےکا کہا میں نےمنع کردیا۔
والدہ نے بتایا کہ میں نےرات 1بجےحسیم کوکال کی کہ تمہیں میررضا کا کچھ پتہ چلا؟پھراس نےمجھےکہا کہ میں اورباقی لوگ آپکےگھر آرہے ہیں،احمد، عبداللہ، رافع، واسع اورحسیم سفید آلٹوکار میں میرےگھررات 2بجےآئے،انھوں نےبتایا کہ ہم نےویڈیومیں دیکھا کہ رضا نےریسٹورنٹ سےگارڈ کی گن نکالی۔
میں نے کہا کہ ایسا کیسےممکن ہے میں آپکی بات کیسےمان لوں،کمیشن نے سوال کیا کہ اس دوران کسی پولیس اہلکارنےآپ سےرابطہ نہیں کیا۔؟ والدہ نے کہا کہ جی بالکل نہیں کیا۔
پھرمیررضا کےپارٹنرعبداللہ نےکہا کہ 22ہزاررضا نےمیرےادا کرنےہیں،پھرانھوں نےوہ ویڈیو شئیرکی کہ جس میں رضانےگاڑی پارک کی اوردوسرے کلپ میں رضا کےگن نکالنےکی ویڈیوتھی۔
کمیشن سربراہ نے سوال کیا کہ وہ پستول کس کا تھا؟کیا وہ پستول ابھی تک برآمد ہوا؟والدہ نے کہا کہ بزنس پارٹنرنےہمیں کہا کہ پستول گارڈ کا ہےاسکی رپورٹ کرنا ہوگی۔بزنس پارٹنزکا کہناتھا کہ ریسٹورنٹ کی ویڈیوکا ریکارڈ رضاکےموبائل فون پرتھا۔وہ ڈیٹا ہم نےرضا کے موبائل سےلیا ہےبزنس پارٹنرنےمجھےبتایا۔
احمد نے وائس نوٹ والد کو کیا کہ جوویڈیوز ہم نےآپکو دکھائی ہیں وہ پولیس کودےدیں۔ہم اس وقت قریبی اسپتالوں میں میررضا کوڈھونڈ رہےتھے۔
میر رضا کی بہن نے اپنے بیان میں کہا کہ اس دوران صبح 5بجےحسیم نےمجھےکال کی کہ رضا رینٹ کی گاڑی استعمال کرتا ہےوہ ہمیں دےدو۔میں نےکہا کہ پہلےرضاآجائےتوسب بعد میں دیکھ لیں گے۔انکا کہنا تھا گاڑی کرائے کی ہےاسےواپس کرنا ہے۔
میر رضا کی والدہ نے کہا کہ بزنس پارٹنرزنےگاڑی کی تلاشی لیکراس میں موجود موناپولی کارڈزاپنےہمراہ لےگئے۔ہم نےبائیکیا اوراوبرکوسرچ کیا۔پھرہمیں بائیکیا والوں نےمعلومات دیں کہ رضا نےگاڑی بک کروائی تھی آلٹواورڈرائیورکا ہمیں نمبردیا گیا۔
پھرانھوں نے ہمیں ڈرائیورکا نام احسان اللہ اورموبائل نمبرفراہم کیا۔بائیکیا نےآخری لوکیشن فراہم کرنےسےمعذرت کرلی۔ڈرائیورسےرابطہ کیا کہ تواس نےبتایا اس نےرضاکوگلستان جوہربلاک 2پرڈراپ کیا،پھربائیکیا ڈرائیور نے ہمیں جگہ کی لوکیشن شئیر کی۔
پھرہم جب اس لوکیشن پرپہنچےتووہاں رضاکا ریسٹورنٹ کا کچن تھا۔پھرکچن کےگارڈ نےبتایا کہ وہاں کچھ قریب گیسٹ ہاؤس ہیں وہاں چیک کرلیں۔ان گیسٹ ہاؤسززمیں غیرقانونی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔پھرہم قلعہ گسیٹ ہاؤس گئےاوروہاں رضا کی تصویردکھائی تونوجوانون وہاں سے فرارہوگئے۔
ہمیں تھوڑاشک ہوا توہم نےانھیں بتایا کہ ہمارا بیٹا ہےمسنگ ہےہم اس کی معلومات لینےآئےہیں،پھرہمارےپاس 4موٹرسائیکل پرسوارچھ افراد آئےوہ واٹربورڈ کےلوگ تھےوہ دیکھنےآئےتھےکہ لوگ ریسٹورنٹ میں کیوں بھاگ رہےہیں۔
ہم نے گیسٹ ہاؤس کی تلاشی لی انھوں نےکمرے دکھائے اوروہاں کی سی سی ٹی وی ویڈیو دکھائی،والد نے گیسٹ ہاؤس سےبھاگنےوالےدولڑکوں کوپکڑااوران سےرضا کےبارےمیں پوچھا۔لیکن رضا کا وہاں سےکچھ نہیں پتہ چلا۔اس دوران سفید آلٹوکچھ دیروہاں ہھرآئی تھی۔
میر رضا کی والدہ نے مزید بتایا کہ جب ہم گسیٹ ہاؤس میں ویڈیوزدیکھ رہےتھےتوپولیس موبائل وہاں آگئی۔ہم نےانھیں تصویردکھائی کہ ہمارابچہ مسنگ ہےہم اسےڈھونڈرہےہیں۔پھراس پولیس موبائل والوں نےبتایا کہ ہمیں ایک باڈی ملی ہےآپ اسکی شناخت کریں،پھرہم جناح اسپتال گئےتووہاں ہم نےدیکھا کہ ایمبولینس میں رضاکی باڈی تھی۔سب انسپکٹرندیم مغل نےباڈی جوہرسےاسپتال منتقل کی۔
جوگسیٹ ہاؤس ہم لوگ ڈھونڈنےگئےتھےاس کے200گزکےفاصلے پر باڈی ملی۔میں نےبڑی مشکل سےاسےشناخت کیا۔باڈی کی حالت بہت زیادہ خراب تھی۔پھرہم نےاسی رات رضا کی تدفین کردی اوردودن بعد سوئم کردیا۔
کمیشن سربراہ نے سوال کیا کہ اس دوران تفتیشی افسرکسی بھی موقع پرآپ کےپاس نہیں آئے، جواب میں میر رضا کی والدہ نے کہا کہ جی نہیں آئے۔
سوئم کے بعد ایس ایچ اوڈی ایس پی ہمارے پاس آئےاورہم سےکہا کہ رضا نےخودکشی کی ہے،پھرعدیل افضال نےرضا کی اسمارٹ واچ مانگی اوراسکا پاس ورڈ معلوم کیا۔
میر رضا کی بہن نے اپنے بیان میں کہا کہ عدیل افضال کا کہنا تھا کہ بزنس پارٹنراحمد سےرابطہ نہیں ہورہا آپ احمد کوکہومجھ سےرابطہ کرے۔ایس ایچ اونےکہا کہ مجھےشک ہےکہ احمد کا اس معاملہ میں کوئی لینا دینا ہے۔
میر رضا کی والدہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گیسٹ ہاؤس کی ڈی وی آر،ایس ایچ اونے اپنے پاس رکھ لی۔
باڈی اسپتال منتقل کرنےوالے ڈرائیورکمیشن کےروبروپیش
میررضا کی باڈی اسپتال منتقل کرنےوالےایدھی ڈرائیورمحسن اورجاوید نے اپنے بیان میں کہا کہ نرسری کےاندرراستہ موجود تھا جہاں سےہم نےباڈی اٹھائی پولیس موبائل وہاں موجود تھی،باڈی ہم نےجب سیدھی کی توجسم پرگولی کا نشان تھا لیکن چہرہ ناقابل شناخت تھا،جسم کےحصہ گل رہےتھے۔
کمیشن سربراہ نے سوال کیا کہ پولیس کےکسی اہلکارنے باڈی کی حالت دیکھنے کی زحمت نہیں کی، جس پر رضا کار نے جواب دیا کہ جی کوئی نہیں آیا۔
پھرہم دورضاکاروں اورنرسری ملازم نےملکرباڈی وہاں سےنکال کراسپتال منتقل کی۔کمیشن نے سوال کیا کہ ایسی سنسان جگہ کوئی آتاجاتا نہیں وہاں کیسےچلا جائے، رضا کاروں نے کہا کہ جی ہمیں بھی حیرت تھی۔
نرسری ملازمین یاسراورقیصرکمیشن کےروبروپیش
نرسری کے ملازمین یاسر اور قیصر نے کہا کہ ہم نےلاش کی نشاندہی کی تھی،لاش ملنےکے 3دن بعد ہمارا بیان پولیس نےریکارڈ کیا تھا،وہ راستہ ایسا ہےکہ وہاں کچرہ کنڈی ہے وہاں ہم اپنی نرسری کا کچرہ بھی ڈالتےتھے۔
ہم نےسنا تھا کہ ایدھی ڈرائیورآپس میں بات کررہےتھےکہ باڈی پرتیزاب پھینکا ہوا ہے،کمیشن سربراہ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے کوئی گولی کی آوازسنی تھی۔ملازمین نے جواب دیا کہ نہیں ہم نےکوئی آوازنہیں سنی۔کمیشن سربراہ نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں حقائق کا پتہ چل سکے۔
ایم ایل او ڈاکٹراسامہ شیخ نے اپنے بیان میں کیا کہا؟
ایم ایل او ڈاکٹراسامہ شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ 2016 میں ایم بی بی ایس کی ڈگری لی اورپھرامتحان پاس کرکے پہلی پوسٹنگ ڈائریکٹرہیلتھ سروسزکراچی میں ہوئی،2021میں پولیس سرجن کےطورپر جناح اسپتال میں پوسٹنگ ہوئی،پھرمجھےایم ایل اوکی ذمہ داری دی گئی۔
ایم بی بی ایس کےعلاوہ میں نےکوئی پولیس سرجن ٹریننگ نہیں کی،جب پولیس سرجن کی ذمہ داری ملی تومیں نےدوسال کا ڈپلومہ کرلیا تھا،میں نے100سےزائد پوسٹ مارٹم کیے ہیں،ڈپلومہ مکمل کرنےکےبعد تقریباً 35پوسٹ مارٹم کیے؟
کمیشن سربراہ نے کہا کہ ہم کچھ تصاویردکھانا چاہتےہیں والدین سےکہوں گا باہرچلےجائیں۔کمیشن سربراہ نے ایم ایل اوکی سرزنش کی کہ دکھائی گئی اس تصاویرمیں باڈی پرلگے زخم کا ذکرنہیں ہےایسا کیوں ہے؟اپ اووراسمارٹ بننےکی کوشش نہ کریں۔
کمیشن سربراہ نے کہا کہ آپ نے پوسٹ مارٹم کیا ہے،آپ سےجتنا سوال کیا ہےاتنا جواب دیں۔آپکی نظرمیں جب یہ لاش لائی گئی توصرف اس پرگولی کا نشان تھا کوئی تشدد یا جلنےکا نشان نہیں تھا؟آپ کواندازہ ہےآپ نےکیا لکھا ہےاس کواتنا آسان نہ سمجھیں آپ نے یہ کیا کیا ہے؟
آپکی رپورٹ تھی کہ تین روزپرانی لاش تھی لیکن لڑکا زندہ سی سی ٹی وی میں دیکھا جاسکتا ہے؟کیا چہرہ اس بات کو واضح کررہا ہےکہ اسکی موت کب ہوئی؟اکثریہی دیکھا گیاہےکہ جوپولیس کہتی ہےپولیس سرجن وہی کچھ رپورٹ میں لکھ دیتا یےیہ عام صورتحال ہے۔
کمیشن سربراہ نے سوال کیا کہ کیا باڈی میں کوئی فریکچرنہیں تھا؟ آپکی رپورٹ میں ایسی کوئی نشاندہی نہیں،ایم ایل اوڈاکٹراسامہ شیخ نے کہا کہ مجھےجوتصاویردکھائی جارہی ہیں وہ کرائم سین کی ہیں۔کمیشن سربراہ نے تنبیہ کی کہ جتنا آپ سے پوچھا جارہا ہے اس کا جواب دیں۔
سماعت کےدوران دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی اسکرین پردکھائی دی گئی۔دوسری رپورٹ میں فریکچرز،جلنےکی نشاندہی اوربہت کچھ ہے۔
کمیشن سربراہ نے اسامہ شیخ سےمکالمہ کیا کہ آپ یہاں حلف لیکربیان دے رہےہیں جوکچھ کہہ رہےہیں سب سچ ہے؟ کیا آپ کومحسوس ہورہا ہےیہ آپ کی نااہلی ہے؟ غلطی ہے؟ کرمنل غلطی ہے؟ کیا ہےبتادیں،کس نےآپ کویہ رپورٹ بنانےکا کہا کسی کانام بتائیں سچ بتائیں۔
ڈاکٹراسامہ شیخ نے جواب دیا کہ میں نےجوبھی رپورٹ تیارکی وہ ہرایک چیز میں نے ڈاکٹر سمیہ سید سےشئیرکی تھی،ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹرفرخ لنجارنےمجھے وزیراعلیٰ ہاؤس آنےکا کہا اورمجھ سےاس رپورٹ کےبارےمیں پوچھا، مجھےوہاں کہا گیا ہےجوتمہارےباس کا باس ہےاسےبتانا ہے۔
وہاں ایس ایس پی موجود تھےوہ مجھ سےٹائم لائن مانگ رہےتھےمیں نےکہا کہ مجھےتحریری طورپردیں،وکیل جبران ناصرکےبارباربولنےکی وجہ سےکمیشن سربراہ برہم ہوگئے۔کمیشن سربراہ نے کہا کہ اگراب دوبارہ تم نےبولا تومیں تمہیں مکمل خاموش رہنےکا آرڈروں گا۔
میر رضا کیس کا پس منظر
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کام سے گھر واپس آنے کے بعد رات گئے دوبارہ گھر سے نکلے تھے تاہم واپس نہیں آئے۔ 29 جولائی کو انہیں گلستان جوہر میں پراسرار حالات میں مردہ پایا گیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھنے کے بعد کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے رپورٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جن میں گولی کے داخلے اور اخراج کی سمت، جسم کے زخموں کی تفصیل، ایکسرے اور فائرنگ کے ذرات سے متعلق ضروری فرانزک کارروائی نہ ہونے سمیت دیگر نکات شامل تھے۔
بعد ازاں میر رضا کے اہل خانہ کے مطالبے پر عدالت نے قبرکشائی کی اجازت دی اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ 8 اگست کو قبرکشائی کے بعد آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا اور مختلف نمونے حاصل کیے۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کے نتائج سامنے آنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کی گئی اور تحقیقات کے لیے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس کی تحقیقات طبی رپورٹس، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں جاری ہیں اور حتمی رپورٹ کے نتائج کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا۔


