خلیج میں ایران کے خارگ جزیرے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ ایرانی میڈیا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے ایک ایرانی ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی رپورٹ کی ہیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق خلیج سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم دھماکوں کے بعد کسی قسم کے دھویں کے آثار نظر نہیں آئے۔
ریاست سے وابستہ ایرانی نیوز ایجنسی نورنیوز نے مقامی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے داغے گئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی نیوز ویب سائٹ عصر ایران نے دعویٰ کیا کہ ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے داغے گئے 4 پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حملے کے وقت ٹینکر سے سامان اتارا جا رہا تھا۔
تاہم ان اطلاعات کے حوالے سے ایران یا امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں بھی ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کو غیر مصدقہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ دھماکوں کی وجہ اور مقام کے بارے میں بھی کوئی حتمی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ کا خارگ جزیرے سے متعلق ماضی میں دیا گیا بیان
خارگ جزیرے کے قریب دھماکوں کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31 اگست 2026کو جزیرے سے متعلق ایک مختصر سوشل میڈیا بیان جاری کیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنی ایک سطری پوسٹ کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ خارگ جزیرہ ’’ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے‘‘۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایرانی حکام نے خارگ جزیرے پر حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔




