امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے اور عالمی معیشت کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے امریکا نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔
جنگ کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا تھا
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے تھے، جن میں ایران کے اہم فوجی اور حکومتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی مارے گئے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کئی ماہ تک جنگ جاری رہی۔
بعد ازاں جون میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا ایک معاہدہ ہوا، تاہم یہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ جولائی میں دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور امریکا نے ایران سے متعلق بحری ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ کردیا۔
آبنائے ہرمز تنازع کا مرکزی نقطہ بن گئی
موجودہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز انتہائی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی خام تیل اور ایل این جی کی روزانہ سپلائی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔ جنگ اور امریکی ناکہ بندی کے بعد یہاں سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
4 ستمبر کو صرف چار کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے جبکہ سپلائی متاثر ہونے کے خدشے کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا خطرہ ہے۔
امریکا میں جنگ کی مقبولیت بھی سوالیہ نشان
جنگ کے اندرونی سیاسی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ رائٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق صرف تقریباً ایک چوتھائی امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ قابلِ قدر رہی، جبکہ نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ شروع ہونے والی امریکی کارروائی ’’زیادہ دیر‘‘ جاری نہیں رہے گی، تاہم خطے میں تازہ حملوں کے بعد جنگ کے مزید پھیلاؤ کے خدشات برقرار ہیں۔
یوں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ تیل کی عالمی قیمتوں، عالمی تجارت، آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اور خطے کی سلامتی پر بھی براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔



