ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش ہے،کشیدگی کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں،دونوں ممالک کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے رابطے میں ہیں ، امید ہے کہ فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔
پاکستان تعمیری مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر چین کی تعمیری اور مسلسل کوششوں کو سراہتے ہیں،پاکستان افغانستان کے معاملے پر ہر مثبت اور تعمیری مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار رہا ہے،افغانستان کے معاملے پر پیش رفت طالبان حکومت کے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات سے مشروط ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے،طالبان حکومت کو افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی یقینی ضمانت دینا ہوگی،افغانستان سے روابط کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔طالبان حکومت کی یقین دہانیوں اور عملی اقدامات پر افغانستان سے روابط کا فیصلہ ہوگا۔
طاہر اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ سفارتکاروں کا تعلیمی اداروں کا دورہ غیر معمولی بات نہیں،سفارت کاروں کے تعلیمی اداروں سے روابط اور دورے معمول کی بات ہیں،تعلیمی ادارے میں کسی ایلچی کی سرگرمی کو دوطرفہ تعلقات کی پیمائش کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا،ایلچی کے تعلیمی ادارے کے دورے کو غیر ضروری طور پر سیاسی تناظر میں نہ دیکھا جائے۔
بھارت کو انتباہ
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی مرضی کے نتائج نہ آنے پر بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتا،بھارت کا رویہ معاہدوں کے تقدس اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے،بھارت کا طرزعمل قائم شدہ بین الاقوامی قانونی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ بھارت کا رویہ مشترکہ وسائل سے متعلق قانونی معاہدوں کے لیے دیگر خطوں میں بھی خطرناک مثال بن سکتا ہے،جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں سرحد پار پانی کے انتظام میں یکطرفہ اقدامات انتہائی تشویشناک ہیں،سرحد پار آبی وسائل کے معاملے میں یکطرفہ اقدامات پائیدار امن اور علاقائی استحکام کے منافی ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے مطالبے کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور معاہدے کے تحت قائم ادارہ جاتی نظام کا احترام کرے،دونوں ممالک نے سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک کو باقاعدہ طور پر قبول کیا تھا۔
بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے ایوارڈ مسترد کرنا بھارت کی قانونی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کر سکتا،ایوارڈ مسترد کرنے سے بھارت کی سندھ طاس معاہدے کے تحت ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی،بھارت کورٹ آف آربیٹریشن کے ایوارڈ پر عمل درآمد کی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا۔
مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،کشمیر پر پاکستان کا مؤقف کشمیری عوام کی خواہشات پر مبنی ہے،یہ مسئلہ پاکستان کے لیے بدستور اہم ترجیح ہے جسے متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر مسلسل اٹھایا جا رہا ہے۔
بشکیک میں بھی قیادت کی علاقائی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر زیر بحث رہا،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے، دورے میں مسئلہ کشمیر اٹھایا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ سید علی گیلانی کی برسی پر پاکستان بھر میں تقریبات منعقد کی گئیں، ان کی کشمیر کاز کے لیے خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ کرغزستان
ترجمان دفتر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ کرغزستان سے متعلق بتایا کہ وزیر اعظم نے بشکیک میں کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی،دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔
پاکستان اگلے سال ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا
ترجمان دفترخارجہ کا مزید بتانا تھا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کی ایک سال کے لیے چیئرمین شپ سنبھال لی، اگلے سال پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کا موضوع وژن کو عمل میں بدلنا، رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی ہے۔پاکستان ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ علاقائی امن و استحکام، معاشی تعاون، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی و خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت اجلاس اور ایس سی او پلس سمٹ میں بھی شرکت کی۔وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایس سی او سربراہ اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے ہم منصبوں اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایس سی او کے سیکریٹری جنرل او اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی ملاقاتیں کیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ،پہلا اجلاس
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا،پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے بحرانوں کے پرامن حل، تحمل اور کشیدگی میں کمی کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔
تینوں ممالک نے مکہ معاہدے کے تحت تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے، اجتماعی دفاع اور مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا،مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے سیکریٹریٹ کا قیام سعودی عرب میں عمل میں لایا جائے گا جبکہ سیکریٹری جنرل کا تقرر ابتدائی طور پر تین سال کے لیے پاکستان سے کیا جائے گا۔
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور مسلح افواج کی استعداد بڑھانے کے لیے تعاون مزید بڑھائیں گے۔
استنبول میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ملاقات ہوئی۔ جس میں سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور ثقافتی شعبوں میں پاکستان ترکیہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا خیرمقدم کیا گیا،پاکستان اور ترکیہ نے اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کا آئندہ اجلاس جلد از جلد، ممکنہ طور پر رواں سال منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان اور ترکیہ نے علاقائی و عالمی امور پر قریبی تعاون اور امن و استحکام کے فروغ پر بھی اتفاق کیا،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے استنبول میں ترک وزیر دفاع سے بھی ملاقات کی۔




