بشکیک: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی کاوشون کو قابل تحسین قرار دیا۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایس سی او سربراہان مملکت اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان کے اقوام متحدہ کے لیے مضبوط عزم اور دیرینہ شراکت داری کا اعادہ کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کے کردار کو آگے بڑھانے پر سیکرٹری جنرل کی قیادت کو سراہا۔
ملاقات میں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال، آئندہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کی تیاریوں اور سلامتی کونسل میں پاکستان اور اقوام متحدہ سے متعلق جاری امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان کے مطابق انتونیو گوتریس نے کثیرالجہتی سفارتکاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو قابل تحسین قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جسے انتونیو گوتریس نے قبول کر لیا۔ تاہم دورہ پاکستان کی تاریخیں باہمی رابطے سے طے کی جائیں گی۔
اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بشکیک میں ملاقات کی۔ جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ناگزیر ہے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر فریقین کا مخلصانہ عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے مسلسل رابطے جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا۔
نائب وزیر اعظم کی ازبک اور بیلا روس کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں
دریں اثنا ایس سی او اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے ملاقات کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور ازبک وزیر خارجہ نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا، دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا اور پاک ازبک تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں اسحاق ڈار اور بیلاروس کے وزیر خارجہ کی بھی ملاقات ہوئی، جس میں باہمی تعلقات، خطے کی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


