وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ہمیں نئے صوبوں کے ناموں سے کوئی مسئلہ نہیں،اصل جنگ وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی ہے،سندھ کو 3حصوں میں تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟کیا 7 اضلاع بنانے سے کراچی ٹوٹ گیا؟ جبکہ ترجمان حکومت سندھ سعدیہ جاوید نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کراچی کو سات اضلاع میں تقسیم کرنا اور سندھ کو تقسیم کرنا دو الگ معاملات ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم انتظامی صوبے بنانے کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی،ہم لسانی بنیاد پر تقسیم کے خلاف ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کے آئین میں 27 ترامیم کر چکے ہیں، سندھ کو 3حصوں میں تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ پورا ملک کہہ رہا ہے کہ نظام مکمل طور پر گل سڑ چکا ہے،مسائل کے حل کے لیے بیٹھ کر بات کی جائے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی جب بھی اقتدار میں آئی اس نے نئے اضلاع بنائے،7اضلاع بنانے سے کیا کراچی ٹوٹ گیا؟
وفاقی وزیر نے پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے کراچی کا ایک گٹر نہیں سنبھل رہا،لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں،بچوں کو کتے کے کاٹنے اور گٹر میں گرنے سے نہیں بچایا جا رہا۔صحت اور صفائی کا موجودہ نظام ایک کاروبار بن چکا ہے،بچوں کو کتے کے کاٹنے اور کرنٹ لگنے سے مرنے پر کبھی غصہ نہیں آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر قائد میں جعلی سرٹیفکیٹ بنا کر نوکریاں بانٹی جا رہی ہیں،جو شہر کما کر دیتا ہے اسے حق نہیں دیا جا رہا۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو ساتھ لے کر عوام کے پاس چلتے ہیں ،دنیا نے میرے دور کے کام کو سراہا ہے،مجھے قریب رکھنے کی بات تو وزیر اعظم بتائیں گے،عباسی شہید اسپتال میں میرے دور میں کام ہوا۔
مصطفیٰ کمال کا اپنی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ماضی میں خواتین کو پلانٹ کرکے بھیجا گیا تھا،میں بہت کچھ کہہ سکتا تھا لیکن خود پر قابو رکھا،20سال میں کرپشن کا ایک کیس بھی نہیں لاسکے۔
پاکستان کے پہلے انٹرنیشنل ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر کا افتتاح
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان کے پہلے انٹرنیشنل ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر کا افتتاح کر دیا یہ سینٹروفاقی گورنمنٹ ڈسپنسری ایئرپورٹ پر قائم کیا گیا ہے۔
ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر میں بین الاقوامی مسافروں کو ویکسینیشن کی سہولت ملے گی۔
مصطفیٰ کمال کے بیان پر ترجمان حکومت سندھ نے کیا کہا؟
ترجمان حکومت سندھ سعدیہ جاوید نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کی تقسیم کی بات ناقابلِ قبول ہے ۔ ایم کیو ایم میں ہمت تھی تو اسمبلی فلورز پر بات کرتی۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی کو سات اضلاع میں تقسیم کرنا اور سندھ کو تقسیم کرنا دو الگ معاملات ہیں،پیپلز پارٹی عوامی ضروریات کے مطابق فیصلے کرتی ہے،کراچی کے انتظامی ڈھانچے کی مثال دے کر سندھ کی تقسیم کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔
سعدیہ جاوید کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کوئی انتظامی نقشہ نہیں جسے جب چاہیں تقسیم کردیا جائے ، ہزاروں سال قدیم تہذیب اورتاریخ کا نام سندھ ہے،سندھ کے عوام کی نمائندہ اسمبلی اپنی دھرتی کی تقسیم کی ہر سازش کو مسترد کر چکی۔
انہوں نے مصطفیٰ کمال پر سوال اٹھایا کہ سندھ میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ مشرف دور میں کیوں نہ کروایا اور اب بھی آپ وفاقی حکومت کا حصہ ہیں تو یہ کوشش کرکے دیکھ لیں، ایم کیو ایم کے خود ساختہ رہنمائوں کی حیثیت یہ ہے کہ ان کی ان کے ایم پی ایز بھی نہیں مانتے ور نہ ضرور کوئی تو اسمبلی فلور پر صوبے کی بات کرتا۔
بھٹو کے آئین نے عوام کو حقوق دیے اور اس میں ترمیم لانے والے صدر زرداری نے ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مضبوط کیا ، بھٹو کے آئین میں جب ’’ضیاء اور مشرف جیسے ڈکٹیٹر ترامیم کر رہے تھے تب ایم کیو ایم ان کی گود میں پل رہی تھی‘‘۔
مصطفیٰ کمال میڈیا کی کوریج اور عوامی توجہ حاصل کرنے کے لئے سیاسی ڈرامے بازی کرتے رہتے ہیں. عوام ان کو سنجیدہ نہیں لیتے ،پاکستان پیپلز پارٹی نے اس ملک اور قوم کے لیے قربانیاں دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا، شہید ذوالفقار علی بھٹو سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو تک ہماری قیادت نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔
سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ صدر آصف علی زرداری کا “پاکستان کھپے” کا نعرہ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست اور سوچ کی پہچان ہے، ہماری سیاست پاکستان کو جوڑنے کی ہے، بانٹنے کی نہیں،پاکستان پیپلز پارٹی نہ پاکستان کو لسانیت کے نام پر تقسیم ہونے دے گی اور نہ کسی اور بنیاد پر، وفاقِ پاکستان کی یکجہتی کے لیے پیپلز پارٹی سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔




