وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے جبکہ انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے متضاد مؤقف پر بھی تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے پر پیپلز پارٹی حمایت یا نرم گوشہ رکھتی ہے جبکہ انتظامی یونٹس کی بات پر سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے۔
ان کا یہ بیان گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو سندھودیش اور پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد سامنے آیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں بشمول صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے اس قرارداد کو ایوان میں لانے کی کوشش پر ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ قرارداد کے ذریعے “دھرتی کو تقسیم کرنے” اور “عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش” کر رہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں جس کی تشریح وقت آنے پرکروں گا۔
جب پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ھوتی ھے تو پیپلز پارٹی اسکی حمایت کرتی ھے یا اس ایشو پر نرم گوشہ ظاہر کرتی ھے۔ اور جب چار کی جگہ multiple صوبوں یا انتظامی یونٹوں کی بات ھوتی ھے تو سندھو دیش کی بات شروع ھو جاتی۔ میں PPP کی اس دورخی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ھوں ۔ کسی وقت آنے…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) September 4, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی منتقلی طے ہوئی مگر عمل نہیں ہوا، اختیارات ایک جگہ پرہونے کی وجہ سے نظام بے کار ہو چکا ہے، صوبے ہوں یا انتظامی یونٹس، اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔
خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں قائم حکومتی اتحاد کی اہم اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر وزیراعظم شہباز شریف کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے اس معاملے پر ان کا مؤقف طلب کیا ہے۔
پیپلز پارٹی پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ نئے وفاقی انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے کوئی بھی اقدام آئین میں طے کردہ طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ تاہم بدھ کو پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ نے صوبائی اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کروائی ہے، جس میں ملک کے موجودہ چار صوبوں کو مزید تقسیم کرنے کی مخالفت کی گئی۔
نئے وفاقی انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر گزشتہ چند ماہ سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے جبکہ کسی بھی تجویز کے پس منظر یا اس کی تفصیلات کے بارے میں اب تک کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تاہم حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں اور وفاقی کابینہ کے ارکان نے مختلف فورمز، بشمول پارلیمنٹ، میں اس خیال کی کھل کر حمایت کی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں 8 سے لے کر 30 صوبوں تک کے قیام کی مختلف تجاویز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ منصوبہ سامنے نہیں لایا گیا ہے۔

