وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چائلڈ ریپ اور منظم جرائم کا ہرقیمت پر تدارک کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات کا سن کر بہت تکلیف ہوتی ہے اور انسانیت پر اعتبار مترزل ہو جاتا ہے۔
وہ لاہور میں پروونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کی افتتاحی تقریب اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہب پنجاب کی ای لانچنگ تقریب سے خطاب کر رہی تھیں، جس کے بارے میں انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس نئے نظام سے پنجاب میں بروقت انٹیلیجنس، خطرات کی نشاندہی، بہتر رابطہ کاری اور فوری کارروائی میں مدد ملے گی۔
اپنے خطاب میں مریم نے جذبات سے بھرپور لہجے میں کہا کہ پنجاب کے 13 سے 14 کروڑ لوگ خدا کے بعد اپنی حفاظت کے لیے ان کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ ان کی جان، مال، اور عزت و آبرو کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنائیں گی۔
View this post on Instagram
“لوگ کہتے ہیں کہ آپ پر کیسز بنیں گے، کل کو آپ کو جواب دہ ہونا پڑے گا، یا تو میں اپنی جان کو بچا لوں جو آسان فیصلہ ہے یا پھر وہ پنجاب کے جو 13، 14 کروڑ لوگ ہیں [ان کی حفاظت کو یقینی بنا لوں]۔”
مریم نواز نے مزید کہا کہ “سیف اور سیکیور ماحول فراہم کرنا بہت مشکل کام ہے۔۔۔اور یہ مشکل فیصلہ میں نے اپنے آپ کو رسک میں ڈال کر لیا ہے کیونکہ میں چاہتی ہوں کے پنجاب کے لوگوں کو یہ احساس ہو کہ وہ ایک محفوظ ماحول میں سوتے ہیں۔”
واضح رہے کہ مریم نواز کی جانب سے قائم کیے گئے کرائم اینڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پر مبینہ پولیس مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کے الزامات سنجیدہ حلقوں اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث رہے ہیں جہاں نوے کی دہائی میں کراچی میں ہونے والے ایسے ہی واقعات کی مثالیں دیتے ہوئے موجودہ پنجاب حکومت کو مستقبل میں انتقامی کارروائیوں اور مقدمات کا سامنا کرنے کے امکانات پر خبردار کیا جاتا رہا ہے۔
اپنے کے ڈھائی سالہ دورِ حکومت میں پنجاب میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جائے یا طاقت کا استعمال امتیازی انداز میں ہو، وہاں مسائل جنم لیتے ہیں۔
ان انہوں نے مزید کہا کہ اگر قانون کی حکمرانی نہ ہو اور عوام کو اپنی ریاست اور حکومت پر اعتماد نہ ہو تو کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے صوبے میں کرپشن اور رشوت کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات کی ہدایات دی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی سرکاری اہلکار کی جانب سے رشوت طلب کرنے یا کسی کرپٹ عنصر کے بارے میں معلومات ہوں تو ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ہیلپ لائن کی تشہیر بھی کی جائیگی اور شکایات پر فوری کارروائی اور گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق انہوں نے آئی جی پنجاب کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ پولیس سمیت تمام فیلڈ افسران اپنے اپنے محکموں میں موجود کرپٹ عناصر کی نشاندہی خود کریں، خواہ وہ ایس ایچ او، ایس پی، ڈی آئی جی یا کسی دوسرے عہدے پر ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کیلئے باڈی کیمروں کا استعمال بھی اسی مقصد کیلئے شروع کیا گیا ہے تاکہ ڈیوٹی کے دوران ان کی سرگرمیوں کی نگرانی ہوسکے اور اہلکار بھی اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ رہیں۔
مریم نواز نے کچے کے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں وہاں اغوا برائے تاوان، ہنی ٹریپ اور دیگر جرائم معمول بن چکے تھے، تاہم پاک فوج کی معاونت اور پنجاب و سندھ حکومتوں کی مشترکہ کوششوں سے ان علاقوں میں کامیابی حاصل ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقے میں نہ صرف جرائم کا خاتمہ ہوا بلکہ وہاں ریاست کی رٹ بھی قائم ہوئی، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ پروونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر پنجاب حکومت کو خطرات کی بروقت نشاندہی، انٹیلیجنس کے بہتر تجزیے، اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور فوری کارروائی میں مدد دے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کوشش یہ ہے کہ کسی واقعے کے بعد نقصان پر قابو پانے کے بجائے خطرے کو پہلے ہی بھانپ کر اسے وقوع پذیر ہونے سے روکا جائے۔
وزیراعلیٰ نے منصوبے کی کامیابی کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات پنجاب میں امن و امان بہتر بنانے اور پاکستان کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔
